کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 17
کا تقاضا یہ ہے کہ بیع جائز ہوتا کہ مقصود شے دستیاب ہوسکے۔ (ب)۔بیع قول یا فعل سے منعقد ہوتی ہے۔قول میں ایجاب و قبول ہوتا ہے جو اس وقت ثابت ہوتا ہے جب بیچنے والا کہے:میں نے یہ چیز فروخت کر دی ۔ اور خریدنے والا کہے: میں نے یہ چیز خریدلی ۔ کسی کے فعل کے ساتھ لین دین یوں ہوتا ہے کہ ایک شخص بات کیے بغیر سامان یا چیز دے، دوسرا اسے اس کی معروف قیمت ادا کردے۔ اور کبھی بیع قول اور فعل دونوں سے ہوتی ہے۔ شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فعل کے ساتھ بیع (بیع المعاطاۃ) کرنے کی متعدد صورتیں ہیں: 1۔ بائع (فروخت کرنے والے) کی طرف سے صرف ایجاب لفظی ہو اور مشتری (خریدار) اس چیز کو بولے بغیر لے لے ، مثلاً :بائع کہتا ہے: یہ کپڑا ایک دینار کے عوض لے لو اور مشتری اسے لے لیتا ہے۔ اسی طرح اگر قیمت شے (نقدی کے سوا) ہو تو بائع کہتا ہے: یہ کپڑا اپنے کپڑے کے عوض میں لے لو اور مشتری اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے۔ 2۔ صرف مشتری لفظ بولتا ہے بائع اس چیز کو ادا کردیتا ہے،قطع نظر اس سے کہ قیمت معین ہو یا بعد میں ادا کیے جانے کی یقین دہانی ہو۔ 3۔ بائع اور مشتری میں سے کوئی بھی الفاظ کا استعمال نہ کرے بلکہ وہاں کا عام طریقہ یہ ہو کہ مشتری قیمت رکھ دے اور مطلوب چیز پکڑ لے۔ (ج)۔صحت بیع کے لیے چند ایک شرائط ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق بائع اورمشتری کے ساتھ ہے اور کچھ کا تعلق فروخت ہونے والی شے سے ہے۔اگر ان میں سے ایک شرط بھی کم ہوتو بیع درست نہ ہوگی۔بائع اور مشتری سے متعلق شرائط یہ ہیں: 1۔ بائع اور مشتری دونوں کی رضا مندی سے بیع ہو۔اگر دونوں میں سے کسی پر ناحق زبردستی اور جبر ہوتو بیع درست نہ ہوگی۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "إِلا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ" "مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے خریدوفروخت ہو۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ" "بیع رضا مندی ہی سے ہوتی ہے۔" البتہ جب کبھی جبرواکراہ درست ہوتو بیع درست قرارپائے گی،مثلاً:کسی حاکم یا قاضی نے کسی شخص کو اس کی چیز