کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 165
"ہبہ واپس لینے والا کتے کی مانند ہے جو قے کرتا ہے اور پھر اپنی قے کھا لیتا ہے۔" یہ حدیث ہبہ دے کر واپس لینے کی حرمت کی دلیل ہے سوائے اس ہبہ کے جسے شارع نے مستثنیٰ قراردیا ہو ،چنانچہ والد اپنی اولاد کو ہبہ کر کے واپس لے سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلَّا الوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ" کسی آدمی کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی کوعطیہ تحفہ دے کر واپس لے سوائے والد کے جو وہ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔" والد کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی اولاد کے مال میں سے مال لے بشرطیکہ اولاد کو اس کی ضرورت نہ ہو اور اولاد کو نقصان نہ ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إنّ أطْيَبَ مَا أكْلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ. وإنّ أوْلاَدَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ" "بہترین مال جو تم کھاؤ وہ تمہاری کمائی کا مال ہے اور بے شک تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی ہے۔" اس حدیث کے کئی شواہد بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ کے لیے اپنے بیٹےکے مال سے لینا، اپنی ملکیت بنانا یا اس سے کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس سے بیٹے کو نقصان نہ ہوتا ہو اور نہ ہی اسے اس کی ضرورت ہو بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان : " أَنْتَ وَمَالُكَ لأَبِيكَ " ’’تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔‘‘  تقاضا کرتا ہے اس کے مال کی طرح اس کی جان کی اباحت کا ، لہٰذا اولاد پر واجب ہے کہ وہ اپنے باپ کی خدمت اپنی جان اور مال دونوں سے کرے ،البتہ والد کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی اولاد کے مال اپنی ملکیت بنالے جس سے اولاد کو نقصان ہو یا اس سے ان کی ضرورت وابستہ ہو۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ " "نہ کوئی نقصان اٹھائے اور نہ نقصان پہنچائے۔" اولاد کے لیے قطعاً جائز نہیں باپ کو قرض دے کر اس کی واپسی کا مطالبہ کرے۔ حدیث میں ہے کہ ایک شخص