کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 161
(7)۔وقف شدہ شے نگران کے پاس ایک امانت ہے ،لہذا اس کی نگرانی اللہ سے ڈرتے ہوئے کرے۔ (8)۔اولاد کے لیے وقف صحیح ہے، مثلاً:اگر کوئی یوں کہے:"میں اپنی اولاد کے لیے وقف کرتا ہوں"تو اس میں بیٹے اور بیٹیاں سب برابری کی بنیاد پر شامل ہوں گے ۔اور کسی کی شراکت کو مطلق رکھنے سے استحقاق سب کے لیے برابر ہوتا ہے،مثلاً:اگر وہ ان کے لیے کسی شے کا اقرار کردے تو سب اس میں برابر شریک ہوں گے۔ایسےہی اگر کوئی شے وقف کردے تو وہ بھی سب کے لیے ہوگی،پھر صلبی اولاد کے بعد وقف بیٹوں کی اولاد کی طرف منتقل ہوگی جب کہ بیٹیوں کی اولاد شامل نہ ہوگی کیونکہ وہ دوسرے شخص کی اولاد ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان: "يُوصِيكُمُ اللّٰهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ " "اللہ تمھیں اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے۔" میں بیٹیوں کی اولاد شامل نہیں۔ بعض علماء کرام کی یہ رائے ہے کہ بیٹیوں کی اولاد"الاولاد"میں داخل ہے کیونکہ بیٹیاں اولاد ہیں تو بیٹیوں کی اولاد بھی اولاد کی اولاد میں شامل ہے۔واللہ اعلم۔ اگر کوئی یوں کہے:"میں اپنے بیٹوں کے لیے یا فلاں کے بیٹوں کے لیے وقف کرتا ہوں۔"تو صرف لڑکے مراد ہوں گے،لڑکیاں نہیں کیونکہ لفظ بَنِينَ (لڑکے) یہ مذکر ہی کے لیے بنایا گیا ہے،جیسا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "أَمْ لَهُ الْبَنَاتُ وَلَكُمُ الْبَنُونَ " "کیااس(اللہ) کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ہیں؟" البتہ اگر موقوف علیہ کوئی قبیلہ ہو،مثلاً:"یہ شے بنو ہاشم یا بنوتمیم کے لیے وقف ہے۔"تو اس میں قبیلے کے مرد اور عورتیں سب مراد ہوں گے کیونکہ"قبیلے کا نام"کا اطلاق مرد اورعورتوں سب پر ہوتا ہے۔ اگر وقف ایسی جماعت کے لیے ہے جن کا حصر وشمار ممکن ہوتواس کے استحقاق استعمال میں سب برابر ہوں گے اور اگر حصر ممکن نہ ہو،مثلاً:بنوہاشم ،بنو تمیم تو تعمیم واجب نہیں اور بعض افراد پر اکتفا کرنایا ان میں سے بعض کو دوسروں پر ترجیح دینا جائز ہوگا۔ (9)۔محض کہہ دینے سے وقف ثابت ہوجاتا ہے۔اس کے بعد اسے فسخ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "لَا يُباع اصلها وَلَا يُوهَب ولا يُورث" "مال وقف نہ فروخت کیا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ ومیراث بن سکتا ہے۔" امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اہل علم کی اکثریت کا اسی حدیث پر عمل ہے۔"