کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 154
مالک کے آنے پر ادائیگی ضرور ہوگی جیسا کہ عاقل وبالغ کافرض ہے۔ (9)۔اگر کسی شخص نے گری پڑی شے اٹھا کر دوبارہ وہیں رکھ دی حتیٰ کہ وہاں پڑی پڑی ضائع ہوگئی تو یہ شخص ضامن ہو گا اس کے ہاتھ میں ایک امانت آئی تھی جس کی اسے دیگر امانتوں کی طرح حفاظت کرنی چاہیے تھی اس نے وہاں چھوڑ کرضائع کردی،لہذا وہ ضامن ہوگا۔ تنبیہ: دین اسلام نے لقطہ کے بارے میں ہمیں جو ہدایات دی ہیں،ان سے واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کے اموال اور سامان کی حفاظت کرنے اور انھیں سنبھال کررکھنے کی بڑی اہمیت ہے،نیز اسلام ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی وخیر خواہی کرنے اوران کے ساتھ تعاون کرنے کی رغبت دلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ ہمیں اسلام پر قائم ودائم رکھے اور اسی پر موت دے۔آمین لَقِیط کا حکم لقیط اور لُقطہ کے مسائل کا ایک دوسرے سے بڑا گہرا تعلق ہے کیونکہ"لقطہ"گرے پڑے مال ومتاع کو کہتے ہیں جبکہ"لقیط" گرے پڑے یاگم شدہ بچے کو کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے احکام انسانی زندگی کے ہرشعبے کو محیط ہیں حتیٰ کہ اس میں یتیم بچوں اور بے سہارا لوگوں کے حقوق بھی موجود ہیں بلکہ اسلام کے سنہری اُصول اور انسانی حقوق آج کی مہذب دنیا کے معروف حقوق سے کئی درجے اعلیٰ اور فائق ہیں۔اسی طرح اسلام نے لقیط کے بارے میں بھی لوگوں کی راہنمائی کے لیے اہم ہدایات دی ہیں۔ شرعی اعتبار سے: جوبچہ کسی کو گرا پڑا یا گمشدہ حالت میں ملے اور اس کانسب غیر معروف ہو اور کوئی اس کا مدعی بھی نہ بنے کہ یہ میرا ہے تو وہ"لقیط" ہے۔ لقیط کا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے کوئی شخص اسے حاصل کرکے اس کی تربیت وکفالت کرلے تو سب کی ذمےداری پوری ہوجائے گی،یعنی کوئی بھی گناہ گار نہ ہوگا۔گویا یہ فرض کفایہ ہے۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: "وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى" "نیکی اورپرہیز گاری میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو۔" آیت کے الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے لقیط بچے کو اٹھانے اور اس کی پرورش کرنے کے حکم کو بھی شامل ہیں