کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 152
کا مال ایسے طریقے سے پکڑا ہے جو اس کے لیے جائز نہیں تھا اور اس میں دوسرے کے مال کو ضائع کرنا بھی لازم آئےگا۔ (2)۔گری پڑی شے کولینے سے قبل اس کے برتن،تھیلی اور تسمے کی صفات اوراس شے کی مقدار،جنس اوراس کی قسم اچھی طرح نوٹ کرلے،ایسا کرنا لازمی ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے اور مطلق حکم(امر) وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ (3)۔گری پڑی شے اٹھانے کے بعد پورا ایک سال اس کااعلان کرنالازمی ہے۔پہلا ہفتہ روزانہ اعلان کرے،پھر دستور کے مطابق وقتاً فوقتاً اعلان کرے۔اعلان کرنے کے لیے لوگوں کے عمومی اجتماع،بازار اورمساجد کے دروازوں پر کھڑاہوکر اعلان کرے کہ کسی کی کوئی شے گم ہوئی ہوتو؟مساجد کے اندر(سپیکر وغیرہ پر) اعلان نہ کرے کیونکہ مساجد اس قسم کے کاموں کے لیے نہیں بنائی جاتیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: " مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَلْيَقُلْ: لَا رَدَّهَا اللّٰهُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا " "جس آدمی کو تم سنو کہ وہ مسجد میں گم شدہ شے کا اعلان کررہا ہے تو تم کہو:اللہ تعالیٰ(تیری شے) واپس نہ کرے کیونکہ مساجد اس کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں۔" (4)۔گم شدہ شے تلاش کرنے والا جب آئے اور ٹھیک ٹھیک علامات بیان کردے تو بغیر دلیل طلب کیے اور بغیر قسم لیے اس کو دے دو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی بات کا حکم دیا ہے۔اور اس چیز کی صحیح علامت بیان کردینا گواہی(دلیل) اور قسم کے قائم مقام ہوجاتا ہے بلکہ بسا اوقات دلیل اور قسم کی نسبت صحیح علامات کی نشان دہی زیادہ واضح اورزیادہ سچی ہوتی ہے۔نیز اس(گری پڑی شے) کی متصل یا منفصل بڑھوتری بھی ساتھ ہی واپس کی جائے گی،ہاں!اگر اس شے کا طالب علامات بیان نہ کرسکے تو یہ شے اس کونہ دی جائے کیونکہ یہ ایک امانت ہے اور امانت ایسے شخص کو دینا جائز نہیں جس کا مالک ثابت نہ ہو۔ (5)۔ایک سال اعلانات کے باوجود اس شے کا مالک نہ آئے تو وہ شے اٹھانے والے کی ملک ہوجائے گی لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ شے کو خرچ کرنے سے قبل اس کی علامات وغیرہ اچھی طرح محفوظ کرلے،اگر کہیں اس کا مالک آجائے اور مذکورہ صفات وعلامات بتادے تو وہ شے اس کو لوٹادی جائے اگربعینہ موجود ہو،اگراس میں تصرف ہوچکا ہو تو اس کا بدل اسے دیاجائے کیونکہ اس کی ملکیت ایک نگہبان اور حفاظت کرنے والے کی طرح