کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 150
"خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ، أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ" "اسے پکڑلو،وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے۔" ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:" اس حدیث میں گم شدہ بکری کواٹھا لینے کا جواز ہے۔بکری کا مالک اگر نہ آئے تو وہ اٹھانے والے کی ملک ہوگی۔اس حال میں اسے اختیار ہے کہ اسے کھالے اور اس کی قیمت مالک کو ادا کردے یا اسے بیچ کر اس کی قیمت محفوظ کرلے یا پھر اس کی حفاظت کرے اور اپنے مال سے اس پر خرچ کرے۔علماء کا اس پراجماع ہے کہ اگر بکری کا مالک آجائے اور اس گم شدہ بکری کو اٹھانے والے نے کھایا نہ ہوتو اس کا مالک اس کو لینے کا حقدار ہے۔" دوسری قسم: وہ اشیاء جن کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو،مثلاً:تربوز یا کوئی اور پھل۔ایسی اشیاء کو اُٹھانے والا خود کھالے اور بعد میں مالک کو اس کی قیمت ادا کردے یا فروخت کردے اور اس کی قیمت مالک کے لیے سنبھال کررکھ لے۔ تیسری قسم: عام اموال واشیاء جو درج بالا دو اقسام کی اشیاء کے سوا ہیں،مثلاً:نقدی یابرتن۔اس قسم کی اشیاء کو امانت سمجھ کر بعینہ اسی حالت میں محفوظ رکھے اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں میں اعلان کرے اورمتعارف کروائے۔ (2)۔گری پڑی چیز وہی شخص اٹھائے جسے اپنی امانت داری پر اعتماد ہو اور اسے متعارف کروانے کی ہمت رکھتا ہوورنہ نہ اٹھائے۔کیونکہ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ سونے یا چاندی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اعْرِفْ وِكَاءهَا وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ فَاسْتَنْفِقْهَا، وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ "، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: " مَا لَكَ وَلَهَا؟ دَعْهَا؛ فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا "، وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ، فَقَالَ: " خُذْهَا؛ فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ" "اس(ملنے والی) چیز کو باندھنے والی رسی اور اس کی تھیلی کی پہچان رکھ،پھر ایک سال تک اعلان کرتا رہ۔