کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 143
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو (القَبَليّة) کے معاون الاٹ کیے تھے۔ اور سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کو"حضرموت" کی اراضی الاٹ کی تھی۔ اسی طرح سیدنا عمر ،سیدنا عثمان اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی کچھ اراضی الاٹ کی تھی۔ جس شخص کے حق میں الاٹ منٹ ہوئی اگر وہ اسے آباد کرلے گا تو وہ اس کا مالک ہوگا وگرنہ حاکم کو چاہیے کہ اس سے زمین واپس لے کر ایسے شخص کو دےدے جو اس کو آباد کرنے پر قدرت رکھتا ہو کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے زمینیں واپس لے لی تھیں جو انھیں آباد نہ کرسکے۔ (2)۔غیر آباد زمین کے سواکسی اورمباح چیز،مثلاً:شکار کیا جانے والا جانور یا ایندھن کی لکڑی وغیرہ کے بارے میں یہ حکم ہے کہ جو شخص اسے پہلے حاصل کرے وہی اس کا حقدار ہے۔ (3)۔اگر لوگوں کی املاک کے پاس سے نہر یا وادی کا پانی گزرتا ہوتو پہلے اوپر والا فائدہ حاصل کرے اور ٹخنوں تک کھیت میں پانی کھڑا کرے،پھر اپنے قریب والے کودے۔کھیتوں کے اختتام تک اسی پر عمل کیا جائے الا یہ کہ پانی پہلے ہی ختم ہوجائے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ احْبِسِ المَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الجَدْرِ، ثُمَّ أَرْسِلِ المَاءَ إِلَى جَارِكَ" "زبیر!(اپنے کھیت کو)پانی پلاؤ حتیٰ کہ منڈیروں تک پہنچ جائے،پھر اپنے ہمسائے کی طرف چھوڑدینا۔" امام زہری فرماتے ہیں:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان:"پانی کو روک رکھ حتیٰ کہ منڈیروں تک پہنچ جائے۔" پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ کھیت میں پانی کی بلندی ٹخنوں تک بنتی تھی،یعنی لوگوں نے بھی اس قصے کا اندازہ کیا تو انھوں نے اپنے ٹخنوں تک پایا۔اب اسی کو استحقاق کا معیار بنالیا کہ پانی کا حق پہلے اسی کا ہے جس کا کھیت پہلے ہے،پھر اس کے بعد جس کا کھیت ہے ۔" اس روایت سے واضح ہے کہ کھیت کو پانی دینے میں اول شخص کا استحقاق ٹخنوں تک پانی جمع کرنے کا ہے۔اسی طرح پھر بعد والوں کا استحقاق ہے۔ سیدنا عمرو بن شعیب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے: