کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 136
ہوئے حملہ آوروں کو قتل کردیا تو اس پر ضمان چٹی نہیں کیونکہ اس نے اسے دفاع کرتے ہوئے قتل کیا ہے جو اس کا جائز حق تھا ،لہذا وہ شخص اس حملے کے نتیجے میں مرتب ہونےوالے اثرات کا ذمے دار نہ ہوگا،نیز اس نے یہ قتل دفع شر کے لیے کیا ہے،گویا حملہ آور اپنے آپ کو خود ہی قتل کرنے والاہے۔ شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"آدمی کو چاہیے کہ وہ حملہ آور کو روکے اگرچہ اس کو قتل کرنا پڑے اور یہ فقہاء کا متفقہ مسئلہ ہے۔" اگر ایک شخص نے کسی کےلغو ولھو کے آلات،صلیب،شراب کے برتن توڑدیے یا گمراہی اور بے حیائی پھیلانے والی کتب ضائع کردیں تو اس میں ضمان(تاوان) نہیں۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِمُدْيَةٍ وَهِيَ الشَّفْرَةُ - فَأَتَيْتُهُ بِهَا،۔۔۔۔ فَخَرَجَ بِأَصْحَابِهِ إِلَى أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ، وَفِيهَا زِقَاقُ خَمْرٍ قَدْ جُلِبَتْ مِنَ الشَّامِ،۔۔۔۔۔ فَشَقَّ مَا كَانَ مِنْ تِلْكَ الزِّقَاقِ بِحَضْرَتِهِ، ۔۔۔۔۔ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ " "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس چھری لاؤں،(جب) میں چھری لایا۔۔۔تو آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ کے بازاروں میں گئے وہاں علاقہ شام سے شراب کے بھرے مشکیزے لائے گئے تھے۔۔۔،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بنفس نفیس انھیں پھاڑا۔۔۔اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی ایسا ہی کرنے کا حکم دیا۔" اس روایت سے ثابت ہوا کہ لغو،بے ہودہ اور حرام اشیاء کو ضائع کرنا درست ہے اور اس میں تاوان اور ضمان بھی کوئی نہیں،البتہ ضروری ہے کہ اس قسم کی اشیاء کا ضیاع حکومت کی طرف سے ہوتاکہ اس عمل کے فوائد حاصل ہوں اور اس کے نتیجے میں خرابی پیدا نہ ہو۔ امانتوں کے احکام امانت اس شے کو کہتے ہیں جو کسی کے پاس رکھی جائے اور وہ اس کی بلامعاوضہ حفاظت کرے،نیز مالک جب چاہے اسے واپس لے سکے۔ مال کی حفاظت کرنے میں امانت دار کی حیثیت ایک وکیل کی سی ہوتی ہے،اس لیے اس کا عاقل وبالغ اور سمجھ دار