کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 132
"بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ نہ تو ان سے بات چیت کرے گا، نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔" فرمان نبوی ہے: "من غصب شبرا من أرض طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " "جس شخص نے کسی کی ایک بالشت زمین پر ( ناجائز) قبضہ کیا قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔" نیز فرمایا ہے: " مَنْ قَضَيْتُ لَهُ من حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فلا ياخذه ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " "اگر میں کسی کو(اس کی زبان کی تیزی کی وجہ سے فیصلے میں)اس کے بھائی کا کچھ حق دے دوں تو اسے نہ لے کیونکہ میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کردے رہا ہوں۔" نقصانات کے احکام اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے اموال میں ظلم وزیادتی کرنے اور انھیں ناحق ضائع کرنے سے منع کیا ہے۔اگر کسی شخص نے کسی کا مال ناجائز ضائع کردیا تو اسے ضمان وتاوان دینے کا حکم دیاگیا ہے اگرچہ یہ ضیاع خطا کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔ جس شخص نے کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر ضائع کردیا تو اس پر شرعاً ضمانت واجب ہے۔ شیخ ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"ہمیں علم نہیں کہ کسی نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہو(توگویا تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے) کہ نقصان کسی نے قصداً کیا ہو یا سہواً،نیز نقصان کرنے والا ،خواہ عاقل وبالغ ہو یا غیر عاقل اور بچہ وغیرہ۔"