کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 130
کیا ہےتو اسے اسی دنیا میں ادا کردے(یا معاف کروالے) اس دن کے آنے سے پہلے پہلے جس دن اس کے پاس کوئی دینار ودرہم نہ ہوگا۔اگر اس کی نیکیاں ہوں گی تو اس سے لے کر مظلوم کو اس پر ظلم کے بقدر دے دی جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کے گناہ ظالم پرلاد دیے جائیں گے۔"ایک روایت کے الفاظ ہیں:"اس پر ڈال دیے جائیں گے"صحیح مسلم کے ا لفاظ ہیں: "(گناہ) اس پر ڈالے جائیں گے بالآخر اسے بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔" (1)۔اگر مغصوب شے موجود ہو تو اسے اسی حالت میں واپس کرے اور اگر ضائع ہوگئی ہوتو اس کا مثل دے(اگر اس کی مثل نہیں تو قیمت اداکرے) ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر علماء کا اجماع نقل کیا ہے کہ اگر مغصوب شے اپنی حالت پر ہوتو اس کا لوٹاناواجب ہے۔ (2)۔اگر مغصوب شے سے کوئی آمدن یا اضافہ ہوا ہے تو وہ بھی واپس کرے،وہ متصل اضافہ ہو(جیسے درختوں کا پھل یا جانوروں کی اون وغیرہ) یا منفصل ہو(جیسے جانور کا بچہ) اصل مال کی طرح یہ اضافہ بھی مالک ہی کا ہے۔ (3)۔اگر کسی نے مغصوب زمین پر کوئی عمارت تعمیر کرلی یا اس میں باغ لگادیا۔اگرمالک کا مطالبہ ہوتو غاصب عمارت منہدم کرے اور درخت ہوں تو انھیں کاٹ لے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "لَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ " "اس میں ظالم کی رگ(کھیتی وغیرہ) کاکوئی حق نہیں ہے۔"  اگر زمین متاثر ہوئی ہوتو غاصب پر حسب نقص تاوان ادا کرنا لازم ہے ،نیز اس پر لازم ہے کہ وہاں سے درختوں یا عمارت کاملبہ اٹھا کر مالک کو اصلی حالت میں زمین واپس کرے۔  (4)۔غاصب پر لازم ہے کہ شے کے غصب سے لے کر مالک کو لوٹانے تک جتنا عرصہ گزرا ہے اس قدر مغصوب شے کاکرایہ و اجرت ادا کرے کیونکہ اس نے اس دوران میں مالک کو فائدہ اٹھانے سے ناحق روک رکھاتھا۔ (5)۔اگر غاصب نے غصب شدہ چیز کو اتنا عرصہ روک کررکھا کہ بازار میں اس کی قیمت کم ہوگئی تودرست بات یہی ہے کہ غاصب اس نقصان کاذمہ دار ہے۔ (6)۔اگر مغصوب شے کسی دوسری ایسی جنس سے مخلوط ہوگئی جو الگ ہوسکتی ہو،جیسے گندم میں جو کی ملاوٹ تو غاصب پر