کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 127
د۔ مستعیر کا فرض ہے کہ عاریتاً چیز کی حفاظت اپنے ذاتی مال سے بڑھ کر کرے تاکہ اسے مالک کی طرف صحیح سالم حالت میں لوٹا سکے۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: "إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا" "اللہ تمھیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انھیں پہنچاؤ۔" اس آیت کااطلاق جس طرح امانت کو واپس کرنے پر ہوتا ہے اس طرح مستعار کو لوٹانے پر بھی ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ " "جو کوئی شے لیتا ہے اس کی ادائیگی اسی کے ذمے ہے۔" اور ارشاد نبوی ہے: "أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ " "جس کی امانت ہے اسے(عندالطلب) لوٹادے۔" ان احادیث کا اطلاق جہاں امانتوں کو لوٹانے پر ہوتا ہے وہیں مستعار اشیاء کو واپس کرنے پر بھی ہوتا ہے کیونکہ مستعار شے بھی ایک قسم کی امانت ہی ہوتی ہے۔اگراس سے استفادہ کرنا جائز قراردیا گیا ہے تو وہ بھی معروف حدود کے اندر اندر ہے۔اس کے استعمال میں اس حد تک اسراف وزیادتی کرناکہ وہ ضائع ہوجائے قطعاً جائز نہیں،نیز اس کا استعمال ناجائز مقام پر بھی نہ کیا جائے کیونکہ مالک نےاسے ایسی اجازت نہیں دی۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ " "احسان كا بدلہ احسان کے سواکیا ہے؟" اگر مستعیر نے شے کاناجائز استعمال کیا اور وہ ضائع ہوگئی تو وہ اس کاضامن ہوگا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ " "جو کوئی شے لیتا ہے اس کی ادائیگی اسی کے ذمے ہے۔" اگر وہ شے معروف طریقے سے استعمال کرتے ہوئے تلف ہوگئی تو وہ ضامن نہ ہوگا کیونکہ مُعیر نے اسے استعمال میں لانے کے لیے ہی اجازت دی تھی تو جب وہ اجازت والے کام میں استعمال کرتے ہوئے تلف ہوگئی تو اس کی ضمانت نہیں ہے۔