کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 125
جو انعام دینے والوں میں سے نہ ہو، البتہ اگر وہ غالب آجائے تو انعام کا مستحق ہو۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے تیسرے شخص کی دخل اندازی کو شرط قرار نہیں دیا۔وہ لکھتے ہیں:" تیسرے فریق کی دخل اندازی کے بغیر مقابلہ ہونا زیادہ انصاف کی بات ہے اور وہ اسی طرح کہ انعام دونوں میں سے ایک کی طرف سے ہو۔ اس سے مقابلے کا مقصود بہتر طور پر حاصل ہوتا ہے، یعنی دوسرے کی شکست واضح ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں انعام لینا حلال کمائی ہے۔ نیز انھوں نے فرمایا: میرے علم کے مطابق تیسرے فریق کی دخل اندازی کا قائل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی نہ تھا، البتہ معروف تابعی حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ اس کے قائل تھے۔ بعض نے ان کی رائے کو قبول کر لیا۔" گزشتہ بحث کا حاصل یہ ہے کہ دو قسم کی مقابلہ بازی جائز ہے: 1۔ جس میں دین اسلام کو قوت اور فائدہ حاصل ہو،مثلاً: جہاد وقتال کے لیے ٹریننگ لینا یا دینی معلومات و مسائل میں پختگی حاصل کرنا۔ اس قسم میں انعام لینا اور دینا جائز ہے۔ 2۔ ایسا مقابلہ جس سے مقصود صرف کھیل ہو جو نقصان دہ نہیں ہے ایسا مقابلہ جائز ہے بشرطیکہ اسلامی عبادات اور دینی فرائض وواجبات کی ادائیگی میں رکاوٹ کا باعث نہ ہو۔ اس قسم کے مقابلے میں انعام لینا اور دینا درست نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اس دوسری قسم میں زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں اور بھاری رقوم کا انعام دیتے ہیں۔ بہت زیادہ قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں، حالانکہ مسلمانوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔ مستعار چیزوں کے احکام "مستعار" وہ چیز ہے جو کسی کو محدود وقت کے لیے جائز فائدہ حاصل کرنے کی خاطر دی جائے اور فائدہ حاصل کرلینے کے بعد مالک کوواپس کردی جائے۔ اس تعریف کی روشنی میں جس چیز سے فائدہ حاصل کرنا ناجائز ہو،وہ مستعار نہیں دی جاسکتی۔اسی طرح جو چیز فائدہ حاصل کرنے سے ختم ہوجاتی ہو وہ چیز بھی کسی کو عاریتاً دینے میں شامل نہیں اور اسے عاریتا نہیں کہتے،مثلاً:کھانے پینے کی اشیاء۔ اشیاء عاریتاً دینے کی مشروعیت کتاب وسنت اور اجماع سے ثابت ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: