کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 124
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ایک انصاری شخص سے دوڑ میں مقابلہ کیا تھا۔ اونٹ گھوڑے اور تیر اندازی میں مقابلہ جیتنے پر انعام دیا جا سکتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: " لَا سَبْقَ إِلَّا فِي خُفٍّ، أَوْ حَافِرٍ، أَوْ نَصْلٍ " "صرف اونٹ ،گھوڑے اور تیر میں مقابلہ بازی (اور انعام ) جائز ہے۔" اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیزیں آلات حرب میں شامل ہیں ،لہٰذا ان کا سیکھنا اور ان کے استعمال میں مہارت حاصل کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ مسلمانوں کی جہادی قوت و استعداد بڑھ سکے۔ واضح رہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق اور رکانہ رضی اللہ عنہما کے قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اس مقابلے میں انعام رکھنا جائز ہے جس سے دین اسلام کو نفع حاصل ہو۔حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بیان کیا ہے کہ" ہر اس مقابلہ بازی میں انعام رکھنا جس میں اسلام کی شان و شوکت کے دلائل اور براہین کا ظہور ہو وہ گھڑدوڑ اور تیراندازی کے مقابلے سے زیادہ اولی بالجواز ہے۔" انعامی مقابلہ بازی کی درستی کے لیے پانچ شرائط ہیں: 1۔ اونٹ ،گھوڑا وغیرہ جانور متعین ہو، مثلاً: فلاں فلاں گھوڑا مقابلے میں شریک ہو گا۔ 2۔ جن کے مابین مقابلہ ہووہ اونٹ یا گھوڑا وغیرہ ایک ہی جنس کے ہوں۔ اسی طرح تیرانداز متعین ہوں کیونکہ مقابلے کا مقصد شرکاء کی قابلیت اور مہارت کا اندازہ کرنا ہے۔ 3۔ وہ مسافت جہاں تک دوڑنا ہے محدود ہوتا کہ آگے بڑھنے والے کا علم ہو سکے۔ 4۔ انعام جائز اور متعین ہو۔ 5۔ مقابلہ جوئے کے شائبے سے پاک ہو۔ انعام مقابلے میں شریک فریقین کے علاوہ تیسرے فریق یا شخص کی جانب سے ہو۔ البتہ اگر مقابلہ کرنے والوں میں سے کوئی ایک فریق یا فرد انعام لگادے تو بالا تفاق جائز ہے۔ اگر دونوں فریق انعام مقرر کرتے ہیں تو علماء کا اس کے جواز میں اختلاف ہے۔ بعض علماء اس کے جواز کے قائل ہیں جبکہ بعض کے نزدیک اس کے جواز کی ایک شرط یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایک تیسرا فریق بھی مقابلہ میں شریک ہو