کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 109
"المُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ" "مسلمان طے شدہ شرائط کی پاسداری کریں۔" شراکت کی یہ قسم"شراکت عنان"سے مشابہت رکھتی ہے، اسی لیے اس کا حکم بھی وہی ہے۔ شراکت کی اس قسم میں ہر حصے دار اپنے ساتھی کا وکیل اور قیمت میں کفیل ہوتا ہے، لہٰذا اس شراکت کا تعلق وکالت اور کفالت سے بھی ہے۔ دونوں کے درمیان نفع کی تقسیم حسب شرط اور شے کی ملکیت کے حساب سے ہو گی، مثلاً: نصف یا کمی و بیشی کے ساتھ۔ اسی طرح ہر ایک شراکت میں شے کی ملکیت کے حساب ہی سے خسارہ برداشت کرے گا۔ یعنی شراکت کی شے میں کوئی نصف کا مالک ہے تو وہ نصف خسارہ برداشت کرے گا۔ خلاصہ یہ کہ ہر شریک کو اس کا نفع حسب شرائط ملے گا،مثلاً:نصف، چوتھائی یا تہائی حصہ کیونکہ کوئی دوسرے کی نسبت مارکیٹ میں زیادہ بااعتماد ہوتا ہے یا تجارت کا زیادہ تجربہ رکھتا ہے۔ اسی طرح کسی کی زیادہ محنت یا زیادہ کردار ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ زیادہ نفع لینے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس میں باہم طے شدہ شرائط کی پاسداری کی جائے گی۔ شراکت وجوہ میں ہر شریک کی صلاحیت و قابلیت کا لحاظ ضرور کیا جائے گا جیسا کہ" شراکت عنان" میں ہوتا ہے۔ شراکت ابدان اس میں دو یا زیادہ اشخاص باہمی سمجھوتہ کرتے ہیں کہ وہ بدن کے ذریعے سے کام کریں گے اور جو بھی حاصل کریں گے اس آمدن میں سب برابر کے حصے دار ہوں گے یا جس نسبت سے طے کر لیں۔ اس کے جواز کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "میں ،سعد اور عمار رضی اللہ عنہم نے بدر کے دن سمجھوتہ کیا کہ آج جو ہمیں مال غنیمت حاصل ہو گا ،اس میں ہم سب برابر کے حصے دار ہوں گے، چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ دو قیدی لے آئے جب کہ میں (عبد اللہ ) اور عمار رضی اللہ عنہ کوئی چیز نہ لائے۔" امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی(عبداللہ بن مسعود ،سعد اور عمار رضی اللہ عنہم ) مشارکت کو بحال رکھا۔" شرکاء کے اتفاق اور معاہدہ کر لینے کے بعد اگر ان میں سے کسی ایک نے کسی کام کو کرنے کی ذمہ داری اٹھالی تو باقی شرکاء کو چاہیے کہ وہ بھی اس کام کو انجام دیں کیونکہ اس معاہدے کا یہی تقاضا ہے۔