کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 107
اگر صاحب مال نے کاروبار کرنے والے سے کہا: تم تجارت کرو اور نفع میں میرا حصہ تین چوتھائی یا تہائی ہو گا یا تجھے تین چوتھائی یا تہائی ملے گا تو یہ بھی درست ہے۔ جب ایک فریق کا حصہ طے ہو گیا تو وہ لے لے گا اور باقی حصہ دوسرے فریق کا ہو گا کیونکہ نفع میں دونوں کا استحقاق ہے اور الفاظ کا بھی یہ تقاضا ہےکہ جب ایک فریق اپنا مقرر حصہ وصول کر لے تو باقی دوسرے فریق کا ہوگا (صاحب مال کی بات کا یہی مفہوم ہے۔) اگر ان میں اختلاف ہو جائے کہ طے شدہ حصہ (مثلاً: ایک تہائی ) کس کے لیے طے ہوا تھا تو وہ کار کن کے لیے سمجھا جائے گا ،خواہ کم ہو یا زیادہ کیونکہ کار کن اپنے کام کی وجہ سے اس حصےکا حقدار قرارپایا ہے اور وہ کم یا زیادہ مقرر ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات کام آسان ہوتا ہے تو عامل کا حصہ کم مقرر کر دیا جاتا ہے ، بعض اوقات کام مشکل ہوتا ہے تو عامل کا حصہ زیادہ مقرر کر دیاجاتا ہے۔ اسی طرح ایک ہی کام کرنے والے دو کار کنوں کا حصہ ایک دوسرے سے مختلف متعین ہو سکتا ہے کیونکہ ایک آدمی کام میں ماہر ہوتا ہے، ایک نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ کہ عامل کا حصہ شرط کی بنیاد پر طے ہوتا ہے جبکہ صاحب مال اپنے مال کی وجہ سے نفع کا مستحق ہے، شرط کی وجہ سے نہیں ۔ اگر مضاربت فاسد ہو جائے تو مال کا نفع مال کے مالک کو ملے گا کیونکہ نفع اسی کے مال سے حاصل ہوا ہے۔ کام کرنے والے کے لیے مزدوری کی وہ اجرت ہے جو اس جیسے کام کرنے والے عام شخص کو ملتی ہے کیونکہ اس کا استحقاق شرط کے ساتھ تھا جو مضاربت میں فساد کی وجہ سے فاسد ہو گئی۔ ایک محدود وقت کے لیے بھی مضاربت ہو سکتی ہے، مثلاً: مالک مال کہے: میں تجھے یہ درہم ایک سال تک مضاربت کے لیے دیتا ہوں۔ اسی طرح مضاربت کسی جائز شرط سے معلق بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً: صاحب مال کہے: جب فلاں مہینہ آئے تو اس مال سے مضاربت کیجئے یا وہ کہے: جب تم زید سے میرا مال وصول کر لو تو وہ مضاربت کے لیے تمہارے پاس ہی رہے گا۔ اس کے جواز کی وجہ یہ ہے کہ مضاربت مال میں تصرف کرنے کی اجازت کا نام ہے، لہٰذا اسے ایسی شرط سے معلق کیا جا سکتا ہے جس کا تعلق مستقبل ہی سے ہے ۔ مضاربت میں کاروبار کرنے والے کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے شخص کا بھی مال لے کر مضاربت شروع کرے الایہ کہ مضارب اول اس کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر دوسرے مضارب کا مال زیادہ ہوا جو اسے سارا وقت مشغول رکھے گا تو پہلے کی تجارت متاثر ہوگی۔ اگر پہلے مضارب کا مال زیادہ ہے جو اسے ہر وقت مصروف رکھتا ہے تو بھی دوسرے مضارب کاکاروبار کرنے سے پہلے شخص کے کاروبار میں تعطل پیدا ہو گا اور یہ غلط ہے، البتہ اگر مضارب اول اجازت دے دے یا اس سے نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو عامل کسی دوسرے شخص کے ساتھ بھی مضاربت کر سکتا ہے۔