کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 105
شراکت کی بعض شرائط میں علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ فریقین میں سے ہر ایک اس اجتماعی مال میں اصالتاً اور وکالتاً تصرف کر سکتا ہے۔ کسی کو دوسرے سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ علماء کا اتفاق ہے کہ شراکت کے کاروبار میں ہر ایک کا اصل مال سونے چاندی کے سکوں (کرنسی) کی شکل میں ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اب تک لوگ بلا اعتراض اس کے ساتھ ہی شراکت کا کاروبار کرتے آرہے ہیں اور کسی عالم نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ شراکت عنان میں اصل مال سامان کی شکل میں ہو تو اس میں شراکت کے جواز یا عدم جواز میں علماء کا اختلاف ہے۔ عدم جواز کے قائلین کی دلیل یہ ہے کہ ایک کے سامان کی قیمت میں کمی و بیشی کا امکان ہے، لہٰذا ہر حصے دار میں نفع برابر تقسیم نہیں ہو سکتا کیونکہ ایک شخص کے مال میں اضافہ ہو ااور دوسرا اس منافع میں بلا وجہ شریک ہو گیا، نیز حقوق کے ضائع ہونے کا اندیشہ اور باطل ذریعے سے مال کھانے کا امکان بھی ہے۔ جواز کے قائلین کا کہنا ہے کہ شراکت کا مقصد تمام حصے داروں کا پورے مال میں تصرف ہے اور پورے نفع کو آپس میں تقسیم کرنا ہے اور وہ نقدی کی طرح مال سامان سے بھی حاصل ہو جاتا ہے اور یہی قول صحیح ہے۔ شراکت عنان کے جواز کے لیے یہ شرط ہے کہ حصے داروں میں منافع کی تقسیم ان کے حصص کے مطابق ہو۔ مثلاً: تہائی یا چوتھائی حصہ وغیرہ کیونکہ نفع ان کے درمیان مشترک ہے۔ ہر ایک کا حصہ طے شدہ شرط کے مطابق ہی ممتاز ہو سکے گا۔ اگر نفع میں سے ہر ایک کا حصہ مجہول ہو یا کسی کے لیے کسی مخصوص مال کا نفع لینے کی شرط لگائی گئی ہو یا کسی محدود وقت یا مخصوص سفر کے نفع کی شرط مقرر کی گئی ہو تو ان تمام صورتوں میں شراکت عنان جائز نہیں ہے کیونکہ کسی مخصوص حصے میں کبھی نفع ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح کبھی متعین نفع سے زائد حاصل ہوتا ہے۔ الغرض یہ صورت نزاع واختلاف کا باعث ہے۔ اسی طرح ایک فریق کی محنت ضائع ہونے کا اندیشہ بھی ہے، لہٰذا شریعت اسلامی ہمیں اس سے منع کرتی ہے اور وہ دھوکے اور نقصان سے لوگوں کو بچانے کے لیے ہی نازل ہوئی ہے۔ مضاربت کا بیان "مضاربت"ضرب سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی زمین میں(تجارت کی خاطر) سفر کرنے کے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: