کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 104
ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لیے کہ اس صورت میں سودی کاروبار یا حرام مال کے شام ہونے کا اندیشہ نہیں ہے۔ شراکت کی دو قسمیں ہیں: (1)شراکت املاک(2)شراکت عقود۔ شراکت املاک ،یعنی استحقاق میں اشتراک، مثلاً: زمین یا فیکٹری یا گاڑیوں وغیرہ کی ملکیت میں اشتراک کا ہو نا۔ شراکت عقود، یعنی تصرف میں اشتراک، مثلاً: شے کی خریدو فروخت یا اسے کرائے پر دینے میں ہر ایک کو اختیار حاصل ہو۔ اور یہ اشتراک یا تو مال اور محنت دونوں کو شامل ہو یا صرف محنت میں اشتراک ہو مال میں نہ ہو، اس کی پانچ قسمیں ہیں جو درج ذیل ہیں: 1۔ دونوں حصہ داروں کا مال اور محنت کرنے میں اشتراک۔ اسے"شرکت عنان"کہتے ہیں۔ 2۔ ایک کا مال مہیا کرنا اور دوسرے کا محنت کرنا ۔ اسے"مضاربت" کہا جاتا ہے۔ 3۔ بغیر مال کے ذمے داری اٹھانے میں دونوں شریک ہوتے ہیں۔ اس کا نام "شرکت وجوہ" ہے۔ 4۔ بدنی محنت میں دونوں کا اشتراک ہو۔ یہ قسم"شرکت ابدان"کے نام سے مشہور ہے۔ 5۔ مذکورہ تمام چیزوں میں شریک ہونا، یعنی جس میں ہر حصے دار دوسرے کو مالی اور بدنی اشتراک کے جملہ اختیارات تفویض کر دیتا ہے اور ہر شریک خریدو فروخت کے اختیارات کا حامل ہوتا ہے۔ یہ قسم شرکت عنان، و جوہ اور ابدان کے علاوہ مضاربت کو بھی شامل ہے۔ اس قسم کا نام "شرکت مفاوضہ" ہے۔ یہ مذکورہ بیان شراکت کی انواع کا مجمل خاکہ تھا۔ ان کی اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر اب ہم آپ کو ہر ایک کی تفصیل سے آگاہ کریں گے۔ شراکت عنان دو یا زیادہ شریکوں کا مال اور تصرف میں برابر ہونے کو "شراکت عنان"کہتے ہیں۔شراکت عنان میں دونوں شریک اپنا مال اور محنت برابر پیش کرتے ہیں۔ دو شخص (یا زیادہ) اپنا اپنا مال ایک مال کی طرح یکجا کر لیں اور معاہدہ کریں کہ سب مل کر کاروبار کریں گے یا ایک کاروبار کرے گا تو اسے دوسرے کی نسبت زیادہ نفع ملے گا۔ مذکورہ اعتبار سے "شراکت عنان"بالا جماع جائز ہے جیسا کہ ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے، البتہ اس قسم کی