کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 103
شراکت اور اس کی اقسام شراکت کے مسائل سے واقفیت نہایت ضروری ہے کیونکہ تجارت میں لوگوں کو اکثر طور پر ان سے واسطہ پڑتا ہے۔ شراکت مالی فوائد حاصل کرنے اور اسے بڑھانے میں باہمی تعاون کا نام ہے۔ اس طرح ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ تجارت وغیرہ میں شراکت کے جواز کے دلائل کتاب و سنت میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ" ’’اور بلاشبہ اکثر حصے دار (شریک ایسے ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پرظلم کرتے ہیں۔‘‘ درج بالا آیت کریمہ شراکت کے جواز پر دلالت کرتی ہے،نیز شریک کو دوسرے شریک پر ظلم کرنے سے روکتی ہے۔شراکت کے جواز پر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: "يَقُولُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِذَا خَانَ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا " "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :میں دو حصے داروں میں تیسرا ہوں جب تک ان میں ایک شخص دوسرے کی خیانت نہیں کرتا۔ اگر ایک شخص خیانت کرے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں۔" اس حدیث میں جہاں شراکت کے جواز کا بیان ہے، وہاں ایک دوسرے کی خیانت نہ کرنے کی بھی تاکید ہے۔ شراکت میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون مقصود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کے ساتھ تعاون کرتا رہتا ہے۔" کاروباری اشتراک میں حلال اور پاک مال شامل ہونا چاہیے ۔حرام یا حرام کی آمیزش سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر شراکت میں خریدو فروخت کی نگرانی واشراف مسلمان کے ہاتھ میں ہے تو شراکت میں کافر کے حصے دار