کتاب: معلم قرآن کی تعمیر شخصیت اور تربیت کے چند راہنما اصول - صفحہ 6
۲۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (( مَنْ ہَانَتْ عَلَیْہِ صَلَاتُہٗ کَانَتْ عَلَی اللّٰہِ أَہْوَنُ۔)) ’’جس پر نماز آسان ہوجائے و ہ اللہ پر زیادہ آسان ہے۔ ‘‘ ۳۔ جناب سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: (( مِنْ تَوْقِیْرِ الصَّلَاۃِ أَنْ تَأْتِیَ قَبْلَ الْإِقَامَۃِ۔)) ’’نماز کی عزت وتکریم یہ ہے کہ اس کی ادائیگی کے لیے اقامت سے پہلے آیاجائے۔‘‘ ۴۔ جناب مجاہد بن مبارک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ: ((کَانَ سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِالْعَزِیْزِ إِذَا فَاتَتْہُ صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ بَکیٰ)) ’’سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نمازباجماعت فوت ہوجانے پر رو یا کرتے تھے۔ ‘‘ ۵۔ جناب سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ((مَا لَقِیْتُ النَّاسَ مُنْصَرِفِیْنَ مِنْ صَلَاۃٍ مُنْذُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ))  ’’چالیس سال سے کبھی نماز سے واپس آتے لوگوں کو نہیں ملا۔‘‘ ۶۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ صَلَّی الْعِشَائَ فِیْ جَمَاعَۃٍ کَانَ کَقِیَامِ نِصْفِ لَیْلَۃٍ وَمَنْ صَلَّی الْعِشَائَ وَالْفَجْرَ فِیْ جَمَاعَۃٍ کَانَ کَقِیَامِ لَیْلَۃٍ۔)) ’’جس نے عشاء کی نماز باجماعت پڑھی اس نے گویا کہ آدھی رات کا قیام کیا اور جس نے عشاء اور فجر کی نماز باجماعت پڑھی ،اس نے گویا کہ پوری رات کا