کتاب: مسنون ذکر الٰہی، دعائیں - صفحہ 82
بِمَا تَحْفَظُ بِہٖ عِبَادَکَ الصَّالِحِِیْنَ ))  ’’اے اللہ! میں نے تیرے نام کے ساتھ پہلو کو بستر پر ڈالا اور تیرے فضل سے ہی اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو میری روح قبض کرلے تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑدے تو اس کی حفاظت فرما جس کے ساتھ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔‘‘ اور جب سو کر اُٹھے تو یہ کہے: (( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِيْ فِيْ جَسَدِیْ وَرَدَّ عَلَیَّ رُوْحِیْ وَاَذِنَ لِیْ بِذِکْرِہٖ )) ’’ہر قسم کی تعریف اس ذات کے لیے ہے، جس نے میرے جسم کو عافیّت بخشی، میری روح کو میری طرف لوٹایا اور مجھے اپنے ذکر کا موقع دیا۔ ‘‘ تھکاوٹ کا علاج: 30۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: