کتاب: مسنون ذکر الٰہی، دعائیں - صفحہ 156
کیوں کہ فرشتے تمھارے کہے پر آمین کہتے ہیں۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَبِیْ سَلَمَۃَ وَارْفَعْ دَرَجَتَہٗ فِی الْمَھْدِیِّیْنَ وَاخْلُفْہُ فِیْ عَقِبِہٖ فِی الْغَابِرِیْنَ وَاغْفِرْلَنَا وَ لَہٗ یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ وَافْسَحْ لَہٗ فِیْ قَبْرِہٖ وَ نَوِّرْ لَہٗ فِیْہِ ))  ’’اے اللہ! ابو سلمہ ( رضی اللہ عنہ ) کی مغفرت فرما، اسے ہدایت یافتہ لوگوں کے درجے میں پہنچا، اس کے بعد اس کے پسماندگان میں اس کا قائم مقام بنا، اے تمام جہانوں کے رب! ہماری اور اس کی مغفرت فرما، اس کے لیے اس کی قبر وسیع کر دے اور اس میں اس کے لیے روشنی کر دے۔‘‘ قرض دار کی دعا: 120۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مکاتب نے انھیں آکر کہاکہ میں اپنی قِسطوں کو ادا کرنے سے عاجز آگیا ہوں۔ انھوں نے فرمایا: