کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 99
جزء رفع الیدین میں ذکر کیا ہے کہ اس رفع یدین کو سترہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے،اور امام حاکم و ابن مندہ ابو القاسم نے ذکر کیا ہے کہ اسے روایت کرنے والوں میں سے عشرّۃ مبشرہ بھی ہیں،اور آگے جملہ پچاس صحابہ رضی اللہ عنہم کا تذکرہ کیا ہے۔ اس تسامح پر شیخ البانی نے بھی کوئی مؤاخذہ نہیں کیا،ورنہ تمام المنّہ میں وہ ایسا کوئی شاذ ہی موقع ہاتھ سے جانے دیتے ہیں،ہاں اگر یہ بات حافظ ابن حجر کی کسی دوسری کتاب کے حوالے سے ہو تو ممکن ہے۔ کندھوں یا کانوں تک : یہ احادیث جو ذکر کی گئی ہیں ان میں سے بعض میں تو مطلق رفع یدین کا ذکر آیا ہے،اس بات کی تعیین نہیں آئی کہ ہاتھوں کو کہاں تک اٹھانا ہے؟جبکہ ان میں سے ہی تین احادیث میں ہاتھوں کو اٹھانے کی حد یعنی کندھوں کا بھی ذکر آیا ہے،جیسا کہ ان احادیث میں سے پہلی میں [حَذْ وَمَنْکِبَیْہِ]،دوسری میں [حَتّٰی یُحَاذِيَ بِھِمَا مَنْکِبَیْہِ] اور چوتھی میں [حَتیّٰ یَجْعَلَہُمَا حَذْوَمَنْکِبَیْہِ]کے الفاظ اس بات کا پتہ بتاتے ہیں کہ رفع یدین کے لیٔے ہاتھوں کو دونوں کندھوں کے برابر تک اٹھانا چاہیئے،جبکہ بعض دوسری احادیث ایسی بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رفع یدین کے لیٔے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک اٹھانا چاہیئے،جیسا کہ صحیح مسلم،نسائی،مسند احمد اور دیگر کتب ِ حدیث میں حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے جس میں وہ بتاتے ہیں : ((کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم اِذَا کَبَّرَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِيَبِھِمَا أُذُنَیْہِ))۔