کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 98
قول ذکر کیا ہے۔ علّامہ ابن عبد البر کہتے ہیں کہ افتتاحِ نماز کے وقت رفع یدین کے جواز پر علماء ِ امّت کا اجماع ہے،اور بعض فقہاء ِاحناف نے کہا ہے کہ اس رفع یدین کا تارک گناہگار ہے،جبکہ حافظ ابن ِحجر نے سب سے بہتر تعبیر امام ابن المنذر کے الفاظ کو قرار دیا ہے،جس میں وہ کہتے ہیں : (لَمْ یَخْتَلِفُوْاأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ)۔  ’’اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آغاز ِنماز میں رفع یدین کیا کرتے تھے۔‘‘ غرض امام بیہقی نے اپنے استاذ امام حاکم سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کوئی ایسی سنّت نہیں ہے جسے بیان کرنے پر چاروں خلفاء،عشرہ مبشرّۃ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے ہونے کے باوجود متّفق ہوں،سوائے تکبیرِ تحریمہ کے سا تھ رفع یدین کرنے کے،اور خود امام بیہقی نے بھی اپنے استاد کی تائید کی ہے۔ یہاں ہم یہ بات بھی ذکر کردینا چاہتے ہیں کہ صاحب ِفقہ السنّہ سیّدسابق سے تسامح ہوا ہے،اور انھوں نے حافظ ابن ِحجر کے حوالہ سے لکھ دیا ہے کہ اس رفع یدین کی روایت عشرہ مبشرّۃ سمیت پچاس صحابہ رضی اللہ عنہم نے کی ہے،جبکہ فتح الباری میں اپنے استاذ ابو الفضل الحافظ کے حوالہ سے حافظ ابن حجر نے یہ بات رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کے بارے میں کہی ہے،جس سے پہلے یہ بھی لکھاہے کہ امام بخاری نے