کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 97
((اِذَا صَلّٰی کَبَّرَ وَ رَفَعَ یَدَیْہِ))۔ ‘’وہ جب نماز پڑھنے لگتے تو تکبیرِ تحریمہ کہتے اور رفع یدین کرتے تھے۔‘‘ اس حدیث کے آخرمیں راویٔ حدیث حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے ہیں: ((وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم صَنَعَ ھٰکَذَا))۔  ’’اور حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔‘‘ ان سب سے اور ایسی ہی دیگر احادیث سے تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ رفع یدین کرنے کا پتہ چلتا ہے۔ انہی سب احادیث کے پیش ِنظریہ رفع یدین ایک متّفق علیہ امر ہے،چنانچہ امام نووی رحمہٗ اللہ نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ تکبیرِ تحریمہ کے سا تھ رفع یدین کے استحباب پر پوری امّت کا اجماع ہے۔ تھوڑا آگے چل کر کہتے ہیں کہ رفع یدین کسی بھی جگہ واجب نہیں،اس پر بھی اجماع ہے اِلّا یہ کہ امام داؤد ظاہری اور شافعیہ میں سے احمدبن یسار نے اس کو واجب کہا ہے۔ علّامہ ابن حزم،امام ابن المنذر اور ابن السبکی نے بھی،امام نووی کی طرح اس رفع یدین پر اجماع نقل کیاہے۔ امام اوزاعی،ابن حُمید اور ابن خزیمہ سے بھی امام حاکم کے حوالہ سے حافظ ابن ِحجر نے وجوب کا قول نقل کیا ہے،اور قاضی حسین سے امام احمد کے بارے میں بھی وجوب کا