کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 95
تکبیرِ تحریمہ اور رفع یدین تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ ہی دونوں ہاتھوں کو کانوں تک یا کم از کم کندھوں تک اٹھانا (رفع الیدین کرنا) چاہیٔے اور یہ پہلی مرتبہ والا رفع یدین متّفق علیہ ہے،اور تمام معروف مذاہب میں سے کسی کا بھی اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے،اور اس رفع الیدین کا ذکر بھی بکثرت احادیث میں آیا ہے،مثلاً ایک تو حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ والی معروف حدیث ہے،جس میں وہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ما بین بیٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرم ا کی نماز کی کیفیّت وطریقہ بیان کرتے ہیں،چنانچہ صحیح بخاری،ابو داؤد،بیہقی اور شرح معانی الآثار طحاوی میں ان کی حدیث کے الفاظ میں ہے : ((رَأَیْتُہٗ اِذَا کَبَّرَ جَعَلَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ)۔ )) ‘’میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تکبیر [تحریمہ] کہی تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر تک اٹھایا۔‘‘ اُنہی سے مروی دوسرے صیغہ میں جو کہ جزء رفع الیدین امام بخاری،سنن ابی داؤد،ترمذی،نسائی [صِفَۃُ الرُّکُوْعِ مِنْہُ] ابن ماجہ،دارمی،بیہقی،ابن حبّان،ابن خزیمہ،ابن الجارود،اور مسند احمد میں ہے،اس میں وہ بیان کرتے ہیں : ((کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم اِذَا قَامَ اِلیٰ الصَّلٰوۃِ اِعْتَدَلَ قَائِماً وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِيَ بِھِمَا مَنْکِبَیْہِ))۔ ))