کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 93
علّامہ ابن الجوزی ؒنے نزھۃ الناظرمیں امام مُزنی ؒ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے امام شافعیؒ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ( لاَ یَحِلُّ لِأَحَدٍ سَمِعَ حَدِیْثَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم فِيْ رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِيْ اِفْتِتَاحِ الصَّلوٰۃِ وَ عِنْدَ الرُّکُوْعِ وَالرَّفْع ِمِنَ الرُّکُوْعِ أَنْ یَّتْرُکَ الْاِقْتِدَائَ بِفِعْلِہٖ )۔  ’’جس شخص نے یہ حدیث سنی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے شروع میں اور رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کیا کرتے تھے،اس کے لیٔے یہ ہر گز جائز نہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنّت کی اقتداء ترک کرے۔‘‘ ان سابقہ تمام اقوال سے معلوم ہوا کہ امام ابن خزیمہ کے رکن و شرط کہنے کے سوا باقی نے اسے واجب شمار کیا ہے،جبکہ بعض اہل ِعلم نے اسے ’’سنّتِ مؤکّدہ‘‘ کہا ہے اور یہی جمہور علماء کا مسلک ہے۔ اور غالباً امام اوزاعی وحُمیدی نے واجب بھی انہی معنوی میں ہی کہا ہے،کیونکہ وہ رفع یدین کو شرط و رکن اور فرض بھی نہیں کہتے تھے اور اسی سنّت ِمؤکّدہ والے مسلک کو ہی بعض اہل ِعلم نے راجح مسلک قرار دیا ہے کہ اسے دیدہ و دانستہ ( جان بوجھ کر) تو نہ چھوڑا جائے،لیکن اگر کوئی چھوڑتا ہے تو اسکی نماز ہو جائیگی،البتہ ثواب میں کمی ہو جائیگی،اور ترک ِسنّت کی ذمّہ داری بھی سر رہے گی۔  بعض علماء نے اسے محض سنّت و مستحب کہا ہے،جبکہ حضرت محدّث گوندلوی ؒ نے التحقیق الراسخ میں لکھا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورخلفاء و صحابہ رضی اللہ عنہم سے صحیح سند کے ساتھ ترک و نفی ثابت ہی نہیں تو پھر یہ قول مرجوح ہے۔