کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 88
رفع الیدین سے متعلقہ بعض دیگر مسائل استمرارِ رفع الیدین : قائلین ِ فع یدین کے تمام دلائل سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع یدین ثابت ہے،اور اس کے منسوخ کیٔے جانے کا کوئی ثبوت نہیں،خصوصاً جبکہ اثباتِ رفع یدین کی احادیث میں جو لفظ [اِذَا] آیا ہے،وہ محاورات عربیّہ کی رُو سے عموم ِ وقت وزمان کے لیٔے ہوتا ہے،جب تک کہ کوئی خارجی قرائن اسے مستثنیٰ نہ کردیں۔ اور [اِذَا] کے عموم ِ زمان کے لیٔے آنے کی مثالیں قرآن ِکریم میں بھی موجودہیں،جیسے سورہ ٔ انفال،آیت (۲۴) میں ارشادِ الٰہی ہے : { یَآ أَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْااسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ…} [سورۃ الانفال:۲۴] ‘’اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پکار پر لبَّیک کہو جبکہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔‘‘ سورہ ٔاحزاب،آیت (۵۳) میں ارشادِ الٰہی ہے : { وَلٰـکِنْ اِِذَا دُعِیتُمْ فَادْخُلُواْ } [سورۃ الاحزاب:۵۳] ’’لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو داخل ہوجاؤ۔‘‘ اسی طرح سورہ ٔ احزاب کی اسی آیت (۵۳) میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : { فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا …} [سورۃ الاحزاب:۵۳] ‘’اور جب کھانا کھا چکو تو پھر [ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے نکل کر] منتشر ہوجاؤ۔‘‘ سورہ ٔ انفال،آیت ( ۱۵) میں فرمان الٰہی ہے : {اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفاً فلَاَ تُوَلُّوْھُمُ الْأَدْبَارِ} [سورۃ الانفال:۱۵]