کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 86
اکثر مولانا مودودی صاحبؒ سے مراسلت رہتی ہے،ایک دن میں نے مولانا کو لکھا کہ میرے ننھیال اہل ِ حدیث ہیں،وہ نماز میں رفع الیدین کرتے ہیں،کیا میں بھی کرلیا کروں؟انھوں نے جواب دیا کہ رفع الیدین کرلیں یا نہ کریں،کوئی بات نہیں یعنی دونوں طرح درست ہے،جناب علوی صاحب نے اس بارے میں مجھ سے پوچھا،میں نے کہا کہ مولانا مودودی صاحب ؒ کو جس طرح میں کہتا ہوں اسی طرح خط لکھیں،میں نے لکھوایا : ‘’مکرمی مولانا صاحب ! السلام علیکم ! میرے ایک سوال کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ رفع الیدین کرنے والی حدیثیں بھی ہیں اور نہ کرنے والی حدیثیں بھی ہیں،براہ ِ کرم رفع الیدین کرنے والی حدیثیں بھی لکھ دیں اور نہ کرنے والی حدیثیں بھی تحریر فرمادیں۔‘‘ ہفتہ عشرہ کے بعد جو جواب مولانا مودودی صاحبؒ نے لکھا،وہ خط جناب علوی صاحب نے میرے آگے رکھ دیا اور مولانا نے جواب دیا : ’’مکرمی السلام علیکم ! جوابا ً گزارش ہے کہ رفع الیدین نہ کرنے والی ایک ہی حدیث ہے جو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے ابو داؤد میں ہے اور وہ ضعیف ہے اور رفع الیدین کرنے والی کئی احادیث ہیں جو سب قوّی ہیں۔‘‘ والسلام ابو الاعلیٰ مودودی نوٹ : [یہ خط میں نے خطبۂ جمعہ میں بھی پڑھ کر سنایا تھا ]۔  (13) … بالکل اسی سے ملتا جلتا ایک واقعہ شاہ عبد العزیز محدّث دہلوی کا بھی ہے