کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 85
کے نزدیک مسلّم ہے اور رَفع الیدین کی احادیث صحیحین میں آئی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ن پر عمل نہیں کرتے تو آئندہ ہم آپ سے کس اسلام کی امید رکھیں؟مولانا مودودی ؒصاحب نے جواب دیا : ‘’بات اصل میں یہ ہے کہ رفع الیدین کرنے سے لوگ متوحّش ہوتے ہیں اور بِدک جاتے ہیں،اس لیٔے میں عام جگہوں پر جب نماز پڑھتا ہوں تو رفع الیدین نہیں کرتا،لیکن جب میں گھر میں تہجّد کی نماز پڑھتا ہوں تو رفع الیدین کر لیتا ہوں۔‘‘ اس پر مولانا نے پھرکوئی اعتراض نہ کیا اور بات ختم ہوگئی۔  مولانا مودودی مرحوم ؒ اور مسئلہ رفع یدین کے بارے میں ہی ایک واقعہ حکیم مولانا محمد صادق سیالکوٹی ؒنے بھی تحریر فرمایا ہے جو انہی کے الفاظ میں یوں ہے : جناب میجر عبد السلام علوی [جو آج کل جی ایچ کیو،راولپنڈی میں کرنل ہیں] کوئٹہ سے تبدیل ہوکر سیالکوٹ چھاؤنی آئے،فرمانے لگے : ’’میں نے کوئٹہ میں آپ کی کتاب ‘’صلوٰۃ الرسول’‘ پڑھی تھی،اس وقت سے ملنے کا شوق تھا،اللہ تعالیٰ سیالکوٹ لے آیا تو ملاقات کے لیٔے آیا ہوں،مجھے جناب علوی صاحب سے مل کر اَز حد خوشی ہوئی اور ان کا شکریہ ادا کیا،پھر ان کا اکثر آنا جانا شروع ہوگیا،وہ بڑے علم دوست اور مذہب کے والہ وشیدا ثابت ہوئے،انھوں نے جمعہ بھی جامع اہلحدیث ڈپٹی باغ میں راقم الحروف کے ساتھ پڑھنا شروع کردیا۔‘‘ میجر صاحب موصوف ایک روز کہنے لگے کہ میری دین ومذہب کے سلسلے میں