کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 82
وہ مزید لکھتے ہیں : ( اَلْاِنْصَافُ فِيْ ھٰذَا الْمَقَامِ أَنَّہٗ لاَ سَبِیْلَ اِلیٰ رَدِّ رِوَایَاتِ الرَّفْعِ بِرِوَایَۃِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللّٰه عنہ وَ فِعْلِہٖ وَ أَصْحَابِہٖ وَدَعْویٰ عَدَمِ ثُبُوْتِ الرَّفْعِ،وَلَااِلیٰ رَدِّرِوَایَاتِ التَّرْکِ بِالْکُلِّیَّۃِوَدَعْویٰ بِثُبُوْتِہٖ،بَلْ یُوَفّیٰ کُلٌّ مِّنَ الْأَمْرَیْنِ حَظَّہٗ وَیُقَالُ:کُلٌّ مِّنْھُمَا ثَابِتٌ وَ فِعْلُ الصَّحَابَۃِ وَ التَّابِعِیْنَ مُخْتَلِفٌ،وَ لَیْسَ أَحَدُھُمَا بِلَازِمٍ یُلَامُ تَارِکُہٗ،مَعَ الْقَوْلِ بِرُجْحَانِ ثُبُوْتِ الرَّفْعِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم )۔ ’’اس مقام پر انصاف کی بات تو یہ ہے کہ حضرت ابن ِ مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت اور ان کے اصحاب کے فعل کو بنیاد بنا کر رفع یدین کرنے کی روایات کو ردّ کرنے کی کوئی سبیل نہیں ہے اور نہ ہی عدم ِ ثبوت کا دعویٰ کرنے کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی ترک کی روایات کو بالکلیّہ ردّ کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ترک کے ثبوت کاانکار کرنے کی،بلکہ ان ہر دو میں سے دونوں کو ہی ان کا حق دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ ان میں سے ہرایک ہی ثابت ہے،البتہ صحابہ و تابعین کا فعل مختلف ہے اور ان ہردو میں سے کوئی امربھی لازم وفرض نہیں ہے کہ اس کے تارک پر ملامت کی جاسکے اور یہ کہے بغیر بھی چارہ نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع یدین کرنے کے ثبوت کا پہلو ہی راجح ہے۔‘‘اپنے فتاویٰ (۱/ ۲۸۶) میں بھی علّامہ عبد الحی ٔ نے اس بات کا صاف صاف اقرار کیا ہے کہ رفع یدین ثابت اور مشروع ہے،یہ منسوخ نہیں ہوئی۔