کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 79
عدمِ رفع ثابت بھی ہوجائے،تب بھی اس سے اس کی عدم ِ سنّیت ہرگز ثابت نہیں ہوتی،کیونکہ سنت کی شان ہی اس کا کبھی ترک کیا جانا ہے اور ہر دو [رفع و ترک] کا سنت ہونا بھی جائز ہے،لہذا نسخ کا دعویٰ کرنے اور کراہت کا مسلک اختیار کرنے کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے۔‘‘ علّامہ سندھی موصوف نے حاشیہ سنن ابن ماجہ میں لکھا ہے : ( أَمَّا قَوْلُ مَنْ قَالَ : اِنَّ ذَالِکَ الْحَدِیْثَ [أَيْ حَدِیْثَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ فِيْ تَرْکِ الرَّفْعِ ] نَاسِخُ رَفْعٍ غَیْرَ تَکْبِیْرَۃِ الْاِفْتِتَاحِ فَہُوَ قَوْلٌ بِلَا دَلِیْلٍ،بَلْ لَوْ فُرِضَ فِيْ الْبَابِ نَسْخٌ فَیَکُوْنُ الْأَمْرُ بِعَکْسِ مَا قَالُوْا)۔ ’’اور جس نے یہ کہا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ والی یہ حدیث تکبیر ِ تحریمہ کے ساتھ والی رفع یدین کے سوا دوسرے مقامات والی رفع یدین کی ناسخ ہے،اس کا یہ قول بلا دلیل ہے۔ بلکہ اگر اس مسئلہ میں نسخ کو فرض کر ہی لیا جائے تو وہ ان کے قول کے برعکس ترک ِ رفع میں نسخ ہے،نہ کہ رفع یدین کرنے میں۔ آگے وہ قول ِ ترک کے منسوخ ہونے کی دلیل کے طور پر لکھتے ہیں کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور حضرت وائل بن حُجر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع یدین کرنے کے وہ راوی ہیں جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،لہٰذا رکوع سے پہلے اور بعد ان کا رفع یدین کی روایت کو بیان کرنا رفع یدین کے متأخّر ہونے کا پتہ دیتا ہے،اور ساتھ ہی اس کے منسوخ ہونے کے قول کے بطلان کی دلیل ہے۔اور اگر کوئی نسخ واقع ہوا ہی ہے،تو پھر ترک ِ رفع منسوخ ہوا ہے نہ کہ رفع یدین کرنا۔اور آگے وہ لکھتے ہیں کہ یہ کیوں نہ ہو؟ جبکہ حضرت مالک رضی اللہ عنہ نے جلسۂ استراحت کی روایت