کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 76
[حجّۃ اللّٰه البالغہ] نامی کتاب میں رفع یدین والے مسئلہ کے بارے میں اختلاف ذکر کیا ہے اور دو طرفہ دلائل کا تذکرہ کرنے کے بعد رفع یدین کی مشروعیت وسنّیت کے دلائل کی قوّت کے پیشِ نظر لکھا ہے : ( وَالَّذِي یَرْفَعُ أَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّنْ لَایَرْفَعُ،فَاِنَّ أَحَادِیْثَ الرَّفْعِ أَکْثَرُوَأَثْبَتُ)۔  ’’جو رفع یدین کرتا ہے وہ مجھے رفع یدین نہ کرنے والے سے زیادہ محبوب ہے،کیونکہ رفع یدین کرنے کی احادیث اکثر اور اَثبت [تعداد میں بکثرت اور صحیح تر ہیں ] ہیں۔‘‘ (3 ) … علمائِ احناف میں سے صاحب ِ الکوکب الدری لکھتے ہیں : ( لاَ خِلَافَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الشَّافِعِيِّ فِيْ جَوَازِ الصَّلٰوۃِ بِالرَّفْعِ وَعَدْمِ الرَّفْعِ،اِنَّمَا النِّزَاعُ فِيْأَنَّ الْأَوْلٰی ھَلْ ھُوَعَدَمُ الرَّفْعِ أَوِالرَّفْعُ؟فَاخْتَرْنَا الْأَوَّلَ وَاخْتَارُوْا الثَّانِيَ )۔  ’’ہمارے اور امام شافعی ؒ کے ما بین رفع یدین کر کے اور رفع یدین کے بغیر ہردو طرح سے نماز کے جواز میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے،اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ آیاافضل واَولیٰ رفع یدین نہ کرنا ہے یا کہ کرنا؟ہم نے پہلے مسلک کو اپنایااورانھوں نے دوسرے کو اختیار کیا ہے۔‘‘ ( 4) … صاحب ِ فیض الباری نے لکھا ہے : ( قَدْ ثَبَتَ الأَمْرَانِ [الرَّفْعُ وَ التَّرْکُ] عِنْدِيْ ثُبُوْتاً لاَ مَرَدَّ لَہٗ وَلَا خِلَافَ اِلَّا فِي الْاِخْتِیَارِ،وَ لَیْسَ فِي الْجَوَازِ )۔ ’’میرے نزدیک رفع یدین کرنا اورنہ کرنادونوں ہی ثابت ہیں،جس