کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 72
الْقَاسِمِ وَھُوَ الَّذِيْ رَوَاہُ وَہَبٌ وَغَیْرُہٗ عَنْ مَالِکٍ وَلَمْ یَحْکِ التِّرْمِذِيُّعَنْ مَالِکٍ غَیْرَہٗ)۔ ‘’امام مالکؒ سے ان مواقع پر ترک ِرفع یدین کسی نے نقل نہیں کی،سوائے ابن قاسم کے،اور وھب وغیرہ نے امام مالک سے یہی روایت بیان کی ہے،اور امام ترمذی نے اس رفع یدین کرنے کے سوا امام مالک سے کوئی دوسری روایت نقل ہی نہیں کی۔‘‘ آگے وہ لکھتے ہیں کہ امام خطابی نے معالم السنن میں اور امام قرطبی نے المفہم شرح صحیح الامام مسلم میں لکھا ہے کہ رکوع سے قبل و بعد رفع یدین کرنا ہی امام مالک ؒکا آخری اور صحیح ترقول ہے۔ غالبا ً یہی وجہ ہے کہ علّامہ عبد الوھاب شعرانی حنفی نے المیزان الکبریٰ میں امام مالک کے اسی آخری قول کو لیتے ہوئے لکھا ہے : ( وَمِنْ ذٰلِکَ قَوْلُ مَالِکٍ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ بِاِسْتِحْبَابِ رَفْعِ الْیَدَیْنِ فِي تَکْبِیْرَاتِ الرُّکُوْعِ وَالرَّفْعِ مِنْہُ )۔  ’’اور اسی سے امام مالک و شافعی و احمد رحمہم اللہ کا قول ہے کہ رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرنا مستحب ہے۔‘‘ علّامہ محمد بن عبد الرحمٰن الشافعی نے رحمۃ الامۃ نامی کتاب میں لکھا ہے : ( رَفْعُ الْیَدَیْنِ فِي تَکْبِیْرَاتِ الرُّکُوْعِ وَالرَّفْعِ مِنْہُ سُنَّۃٌعِنْدَ مَالِکٍ وَ الشَّافِعِيِّ)۔  ’’رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا امام مالک ؒ و شافعی ؒ