کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 71
وَاِسْمَاعِیْلَ یَرْفَعُوْنَ أَیْدِیَھُمْ عِنْدَ الرَّکُوْعِ وَاِذَا رَفَعُوْا رُؤُوْسَھُمْ )۔  ‘’میں نے معتمر،یحیٰ بن سعید،عبد الرحمٰن اور اسماعیل کو دیکھا ہے،وہ سب رکوع کرتے وقت اوررکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔‘‘ غرض تمام ہی محدّثینِ کرام کا متفقہ تعامل رکوع سے پہلے اور بعد رفع یدین کرنا ہی تھا،حتیٰ کہ امام محمد بن نصر مروزی کہتے ہیں : (أَجْمَعَ عُلَمَائُ الْأَمْصَارِعَلیٰ مَشْرُوعِیَّۃِ ذٰلِکَ اِلَّا أَھْلَ الْکُُوْفَۃِ)۔  ’’تمام شہروں کے لوگ اس کی مشروعیت پر متفق ہیں سوائے اہل ِکوفہ کے’‘ امام مروزی کا اہل ِکوفہ کے بارے میں یہ قول اکثریّت کے بارے میں ہے،مطلق نہیں،کیونکہ معروف فقیہہِ کوفہ امام ابن المبارک اور ان کے اصحاب بھی رفع یدین کے قائل و فاعل تھے،جیسے کہ تفصیل گزری ہے۔ آئمہ و فقہاء اب رہے آئمہ مجتہدین اور فقہاء تو اُن میں سے امام شافعی،امام احمد بن حنبل،امام عبد اللہ بن مبارک اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ تو اس رفع یدین کی مشروعیّت کے قائل ہیں،البتہ امام مالک ؒ کے بارے میں روایت ذرا مختلف فیہ ہے،چنانچہ حافظ ابن حجر نے علّامہ ابن عبد البر کا قول اس طرح نقل کیا ہے : ( لَمْ یَرْوِأَحَدٌ عَنْ مَالِکٍ تَرْکَ الرَّفْعِ فِیْھِمَا اِلاَّ ابْنَ