کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 69
( کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَامِرٍ سَأَلَنِيْ أَنْ اَسْتَأْذِنَ لَہٗ علی عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ،فَاسْتَأْذَنْتُ لَہٗ عَلَیْہِ،فَقَالَ:الَّذِيْ جَلَدَأَخَاہُ فِيْأَنْ رَفَعَ یَدَیْہِ؟اِنْ کُنَّا لَنُؤَدَّبُ عَلَیْہِ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ فِي الْمَدِیْنَۃِ،فَلَمْ یَأْذَنْ لَہٗ)۔ ’’عبداللہ بن عامر نے مجھ سے کہا کہ میں ان کے لیٔے حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کروں،میں نے ان کے لیٔے اجازت طلب کی،انھوں نے فرمایا : یہ وہ شخص ہے جس نے رفع یدین کرنے پر اپنے بھائی کو کوڑے مارے تھے،جبکہ مدینہ میں جب ہم ابھی بچے تھے تو ہمیں رفع یدین کرنا سکھایا جاتا تھا،اور اس شخص کو اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دی۔‘‘ دیگر حضرات ؒ کے آثار: امام بخاریؒ نے ذکر کیٔے گئے بعض حضرات،حسن بصری،نعمان اور عمر بن عبدالعزیز کے آثار کے علاوہ حضرت قاسم بن محمد،عطاء بن ابی رباح،مکحول،ابونضرہ،حسن بن مسلم،عبداللہ بن دینار،ابن ابی نجیح اورقیس بن سعد رحمہم اللہ کا ذکر کر کے لکھا ہے : ( وَھٰؤُلآئِ أَھْلُ مَکَّۃَوَأَھْلُ الْمَدِیْنَۃِ وَأَھْلُ الْیَمَنِ وَ أَھْلُ الْعِرَاقِ قَدْ تَوَاطَئُوْا عَلٰی رَفْعِ الْأَیْدِیْ )۔  ’’مکہ مکرمہ،مدینہ طیبہ،یمن اور عراق والے تمام کبار علماء اور عوام رفع الیدین کرنے پر متّفق تھے۔‘‘