کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 68
اثر ِ حضرت نعمان بن ابی عیاش ؒ: اسی طرح جزء رفع الیدین امام بخاری اور مسند الامامؒ میں حضرت نعمان بن ابی عیاشؒ کا اثر ابن ِ عجلان ؒ نے بیان کیا ہے،جس میں وہ فرماتے ہیں : ( لِکُلِّ شَيْئٍ زِیْنَۃٌ،وَزِیْنَۃُ الصَّلوٰۃِ أَنْ تَرْفَعَ یَدَیْکَ اِذَا کَبَّرْتَ وَ اِذَا رَکَعْتَ وَاِذَا رَفَعْتَ رَأْسَکَ مِنَ الرُّکُوْعِ)۔  ہر چیز کی کوئی نہ کوئی زینت ہوتی ہے،اور نماز کی زینت یہ ہے کہ تم تکبیرِ تحریمہ کے ساتھ اور رکوع جاتے وقت اوررُکوع سے سر اُٹھاتے وقت رفع یدین کرو۔ فتح الباری میں حافظ ابن حجرؒ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماکی طرف یہ قول یوں منسوب کیا ہے: (رَفْعُ الْیَدَیْنِ مِنْ زِیْنَۃِ الصَّلوٰۃِ)۔ ’’رفع یدین کرنا نماز کی زینت ہے۔‘‘ رفع یدین کے نماز کی زینت ہونے والی بات علّامہ ابن عبد البر نے الاستذکار(۱/۱۲۲) میں حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی ؒنے حجّۃ اللّٰه البالغہ (۲/۱۰) میں اور علّامہ عبد الحی ٔ نے التعلیق الممجّد علیٰ مؤطأ امام محمد (ص:۶۹) میں بھی ذکر کی ہے۔ اثر ِ حضرت عُمر بن عبد العزیز ؒ : خلفاء ِ راشدین میں سے پانچویں خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے بارے میں علّامہ ابن عبدالبر نے اور امام بخاری ؒ نے بھی رفع الیدین سے متعلقہ اپنے جزء میں روایت بیان کی ہے کہ عَمرو بن مہاجر نے کہا :