کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 65
آگے امام ابن سیرین ؒکا قول نقل کیا ہے،جسے امام اثرم ؒنے بھی اپنی مسند میں روایت کیا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : ( ھُوَمِنْ تَمَام ِالصَّلوٰۃِ )۔  ’’یہ نماز کی تکمیل کا حصہ ہے۔‘‘ اثر ِ امام ابن المبارک ؒ : مشہور تو یہ ہے کہ فقہاء ِ کوفہ رفع یدین کے قائلین نہیں ہیں،جبکہ امام ابن المبارک ؒ معروف فقہاء ِکوفہ میں سے ہیں،ان کے بارے میں امام بخاریؒ نے لکھا ہے: ( وَکَانَ ابْنُ الْمُبَارَکِ یَرْفَعُ یَدَیْہِ وَہُوَ أَکْبَرُأَہْلِ زَمَانِہٖ عِلْماً فِیْمَا یُعْرَفُ )۔  ’’حضرت ابن مبارک ؒ رفع یدین کیا کرتے تھے،اور وہ اپنے وقت کے معروف علماء میں سے سب سے بڑے عالم تھے۔‘‘ علمی لطیفہ : انہی حضرت عبد اللہ بن مبارک ؒکا ایک پر لُطف واقعہ امام بخاریؒ نے جزء رفع الیدین میں،امام بیہقی نے سنن کبریٰ (۲/۸۲) میں،امام احمدبن حنبل نے السنہ (ص:۵۹) میں،امام ابن حبان نے الثقات (۴/۱۷) میں،خطیب نے تاریخ ِ بغداد (۱۳/۴۰۶)میں،ابن عبد البر نے التمہید (۵/۶۶) میں اور ابن قتیبہ نے تأویل مختلف الحدیث میں حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کے ساتھ نقل کیا ہے جس میں امام ابن مبارک ؒ کہتے ہیں : (کُنْتُ أُصَلِّيْ اِلیٰ جَنْبِ نُعْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ فَرَفَعْتُ یَدَيَّ فَقَالَ: اِنَّمَا خَشِیْتُ أَنْ تَطِیْرَ،فَقُلْتُ: اِنْ لَمْ أَطِرْ فِيْالأُوْلیٰ