کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 64
اسحاق بن راہویہ بھی ہیں،یہ اپنے وقت کے اساطین ِ علم ہیں۔ ان میں سے کسی کے یہاں بھی ترک رفع یدین کی کوئی حدیث و اثرہرگز ثابت نہیں ہے،نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اور نہ ہی کسی صحابی کے بارے میں کہ وہ رفع یدین نہ کرتے ہوں۔‘‘ انہی وجوہات کی بِناء پر امام بخاری ؒ نے ان الفاظ میں گویا رکوع سے قبل و بعد والے رفع یدین اور تکبیرِ تحریمہ والے رفع یدین کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہونے کا دعویٰ کیا ہے کہ وہ سب ان تینوں مواقع پر رفع یدین کیا کرتے تھے۔ آثارِتابعین ؒ وتبع تابعین ؒ جب کسی مسئلہ پر اتنی صحیح و صریح اور مرفوع احادیث شاہد ہوں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک طرح کا اجماع بھی ہو،اس کے بارے میں مزید کسی کے آثار و اقوال کی ضرورت تو کوئی نہیں رہ جاتی،لیکن طرف ِ ثانی کے اطمینان کیلئے قائلین ِ رفع یدین نے بعض آثار ِ تابعین ِ کرام و تبع تابعین ِ عظام رحمہم اللہ بھی پیش کیٔے ہیں : آثار ِ امام حسن بصری ؒ و امام ابن سیرین ؒ : امام حسن بصری ؒ اور امام ابن سیرین ؒ رحمہما اللہ کا ایک مشترکہ اثر جزء رفع الیدین میں امام بخاری نے بیان کیا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں: (اِذَا کَبَّرَ أَحَدُکُمْ لِلصَّلوٰۃِ فَلْیَرْفَعْ یَدَیْہِ حِیْنَ یُکَبِّرُ وَحِیْنَ یَرْفَعُ رَأْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ )۔  ‘’تم میں سے کوئی شخص جب نماز کیلئے تکبیرِ تحریمہ کہے تو اسے چاہئیے کہ تکبیر کہتے وقت رفع یدین کرے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کرے۔‘‘