کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 62
اِجماعِ صحابہ رضی اللہ عنہم اس موضوع کے کتنے ہی دیگر آثار بھی کئی دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔ لیکن یہاں ہم انہی گیارہ آثار پر اکتفاء کرتے ہوئے اتنا کہے جاتے ہیں کہ تمام ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رفع یدین کے قائل و فاعل تھے۔ جیسا کہ امام بخاری ؒنے جزء رفع الیدین میں،جہاں حضرت وائل بن حُجر رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث بیان کی ہے،جس میں مذکور ہے کہ جب وہ دوبارہ ایک مرتبہ سخت سردی کے موسم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاتھ کپڑوں یا چادروں میں لپٹے تھے،مگر وہ اُسی طرح رفع یدین بھی کرتے تھے۔ اس حدیث کو بیان کرکے امام بخاری ؒ لکھتے ہیں : ( لَمْ یَسْتَثْنِ وَائِلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم أَحَداً اِذَاصَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم أَنَّہٗ لَمْ یَرْفَعْ یَدَیْہِ )۔  ‘’حضرت وائل رضی اللہ عنہ نے کسی ایک بھی صحابی کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا کہ جب انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو کسی نے رفع یدین نہ کی ہو۔‘‘ ایسے ہی دو کبار تابعین حضرت حسن بصری ؒ اور حمید بن ہلال ؒ رحمہما اللہ سے نقل کیا ہے : ((کَانَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَرْفَعُوْنَ أَیْدِیَھُمْ وَلَمْ