کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 61
آثارِصحابیات رضي اللہ عنہن اثر ِ حادی عشر : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ رفع یدین تو بعض صحابیات رضی اللہ عنہنّ سے بھی ثابت ہے۔ چنانچہ جزء امام بخاری میں حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کے بارے میں عبدربہ ؒ فرماتے ہیں: ((رَأَیْتُ أُمَّ الدَّرْدَائِرضی اللّٰه عنہا تَرْفَعُ یَدَیْہَا فِي الصَّلوٰۃ حَذْوَ مَـنْکِبــَیـْہَاحِیْنَ تَفْتـَتِـحُ الصَّلوٰۃَ وَحِیْنَ تَرْکَعُ،فَاِذَا قَالَتْ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ،رَفَعَتْ یَدَیْہَا وَقَالَتْ:رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ )۔  ’’میں نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ نمازکے آغازمیں دونوں کندھوں تک دونوں ہاتھ اٹھاتی تھیں اور رکوع جاتے وقت بھی اور جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗکہتیں،تب بھی رفع یدین کرتیں اور رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہتی تھیں۔‘‘ اس اثر کو بیان کرنے کے بعد امام بخاری ؒ تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں : (وَنِسَآئُ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم ہُنَّ أَعْلَمُ مِنْ ہٰؤُلٓائِ حِیْنَ رَفَعْنَ أَیْدِیَہُنَّ فِيْ الصَّلوٰۃِ)۔  ‘’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کی بیویاں بھی ان [مانعین ِرفع یدین ] سے زیادہ علم والی تھیں،کیونکہ وہ نماز میں رفع یدین کرتی تھیں۔‘‘