کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 59
اثر ِ ثامن : جزء امام بخاری میں تعلیقاً اور سنن دار قطنی و بیہقی میں موصولاً راویٔ رفع الیدین حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں : (( ہَلْ أُرِیْکُمْ صَلوٰۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم ))؟ ’’کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ دکھلاؤں؟۔‘‘ پھر جو نماز پڑھ کر دکھلائی،اس کے بارے میں راوی کہتے ہیں : ( فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ ثُمَّ کَبَّرَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ لِلرُّکُوْعِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ،وَرَفَعَ یَدَیْہِ )۔ ’’انھوں نے تکبیر کہی اور رفع یدین کی،پھر تکبیر کہی اور رکوع جاتے وقت رفع یدین کی اور پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہا اور رَفع یدین کی۔‘‘ پھر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا : (( ہٰکَذَا فَاصْنَعُوْا،وَلَا یَرْفَعُ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ ))۔  ‘’اس طرح کیا کرو،اور دو سجدوں کے درمیان وہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔‘‘ اثر ِ تاسع : اسی سلسلہ میں ہی ایک اثر جزء رفع الیدین امام بخاری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راویٔ رفع یدین حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہماسے بھی مروی ہے،جس میں ابو حمزہ ؒ بیان کرتے ہیں: (( رَأَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُمَایَرْفَعُ یَدَیْہِ حَیْثُ کَبَّرَ وَاِذَا رَفَعَ رَأْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ ))۔  ‘’میں نے حضرت ابن ِعباس رضی اللہ عنہماکو دیکھا کہ وہ تکبیر کہتے وقت رفع یدین کرتے تھے اور رُکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی