کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 55
ان کا ذاتی عمل بھی یقیناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عملِ مبارک کے مطابق ہی تھا،لیکن خاص اس سلسلہ میں ان کا اثر ہمیں دستیاب نہیں ہوا،اور یہی کیا کم ہے کہ علّامہ زیلعی ؒ نے نصب الرایہ میں لکھا ہے : (فَلَارَیْبَ أَنَّ الْخُلَفَائَ الرَّاشِدِیْنَ کَانُوْا أَعْلَمُ بِصَلوٰۃِِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم … وَلَا یَظُنُّ عَاقِلٌ أَنَّ أَکَابِرَ الصَّحَابَۃِ وَ التَّابِعِیْنَ وَأَکْثَرَ أَھْلِ الْعِلْمِ کَانُوْا یُوَاظِِبُوْنَ عَلیٰ خِلاَفِ مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَفْعَلُہٗ)۔ ’’اس میں شک و شُبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکو سب سے زیادہ جاننے والے تھے … اور کوئی صاحبِ عقل یہ گمان بھی نہیں کر سکتا کہ کبار صحابہ و تابعین اور اکثر اہل ِ علم،سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل خلاف و رزی کرتے رہے ہوں۔‘‘ عام صحابہء کرام رضی اللہ عنہم کے آثار خلفاء ِ راشدین کے علاوہ عام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بھی متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے آثار ثابت ہیں۔ اثر ِثالث : امیر المؤمنین حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما کی صحیحین اور دوسری تمام ہی کتب والی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع یدین کرنے کا ذکر تو گزرگیا ہے،جبکہ حضرت ابن عمررضی اللہ عنہماکے بارے میں جزء رفع الیدین امام بخاری ؒ میں حضرت نافع ؒ بیان کرتے ہیں : (( اِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ اِذَا اسْتَقْبَلَ الصَّلوٰۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ،