کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 53
بِالطُّرُقِ الْقَوِّیَّۃِ وَ الأَخْبَارِ الصَّحِیْحَۃِ)۔  ’’اور حق بات یہ ہے کہ رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کے قوی طُرق اور صحیح اسانید والی احادیث کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بکثرت صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت شُدہ ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔‘‘ آثارِ خلفاء و صحابہ رضی اللہ عنہم مذکورہ مرفوع احادیث کے علاوہ اس موضوع پر صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین ؒ اور تبع تابعین ؒکے آثار بھی بکثرت ہیں،جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سب بھی رفع یدین کے قائل و فاعل تھے۔ اور یہ بات بھی اس امر کی دلیل ہے کہ یہ سنّت صحیح و ثابت ہے،منسوخ نہیں ہوئی۔ چنانچہ اس سلسلہ میں علّامہ فیروز آبادی کے بقول تو چار سو اَحادیث وآثارہیں،جن میں سے پچاس صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعداد تو بعض کبار محدّثین کرامؒ کے یہاں معروف ہے،اور ان میں سے اڑتالیس کے اسماء گرامی ہم نے مختلف کتب کے حوالہ سے ذکر کیٔے ہیں،جن سے رفع یدین کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ اور انہی میں سے چند صحابہ رضی اللہ عنہم کی مرویات پیش بھی کی ہیں،اور ان صحابہ رضی اللہ عنہم کا اپنا عمل بھی اپنی مروی حدیث کے مطابق رفع یدین کرنے کا ہی تھا،جیسا کہ ان کے بارے میں مروی آثار سے پتہ چلتا ہے۔ آئیے اب بعض صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین ؒ،تبع تابعینؒاور آئمہ ؒ کے آثار کا بھی مطالعہ کریں۔