کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 49
بارے میں امام احمدؒ نے لکھا ہے: ( اِحْتَرَقَتْ کُتُبُہٗ )۔ ‘’ان کی کتابیں جل گئی تھیں۔‘‘ آگے انہیں صحیح الکتاب قرار دیتے ہوئے لکھا ہے : ( وَمَنْ کَتَبَ عَنْہُ فَسِمَاعُہٗ صَحِیْحٌ )۔ ’’جس نے ان سے اس سے قبل لکھا تھا ان کا سما ع صحیح ہے۔‘‘ ابن معین نے غیر قوّی کہا اور وکیع،یحی ٰ القطان اور ابن مہدی نے انہیں ترک کردیا تھا،اور حافظ ابن حجر ؒ نے التقریب میں صدوق از طبقۂ ہفتم لکھا ہے،اور بتایا ہے کہ کتب کے جل جانے کے بعد ان کے حافظہ میں اختلاط آگیا تھا…… اور لکھتے ہیں : ( وَلَہٗ فِي مُسْلِمٍ بَعْضُ شَيْئٍ مَقْرُوْنٍ )۔  ’’صحیح مسلم میں دیگر روایات سے مقرون ان کی بعض روایات موجود ہیں’‘ اگر اس سند کے راوی ابن لہیعہ کو مانعین ِ رفع یدین کے بعض علماء کی طرز پر بھی لیا جائے،تو ایسے مختلف فیہ راوی کی روایت کم از کم حسن درجہ کی ہوتی ہے۔ اور اس کے راوی میمون مکّی ؒ کو بھی مجہول قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ سند تو ضعیف ہے۔ اور پھر زیادہ سے زیادہ اس سند پر کلام والی بات رہ جاتی ہے،ورنہ حدیث میں وارد رَفع یدین کی تائید تو دوسری صحیحین اور دیگر کتب کی احادیث سے بھی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علّامہ البانی نے اسے صحیح سنن ابی داؤد میں وارد کیا ہے،اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث میں جو ((حِیْنَ یَسْجُدُ)) کے الفاظ آئے ہیں،تو ان سے مراد بوقت ِ سجدہ رفع یدین نہیں بلکہ رکوع کے بعد اٹھ کر سجدہ کرنے سے پہلے پہلے اور کھڑے کھڑے رفع یدین مراد ہے،جسے عام احادیث میں رکوع کے بعد رفع یدین