کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 45
اس کے راویوں کو بخاری و مسلم کے راوی قرار دیا ہے۔  امام طحاوی و دار قطنی نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح تر قرار دیا ہے کہ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا اپنا فعل ہے۔ ان کااسے موقوف قرار دینا ممکن ہے اس وجہ سے ہو کہ دار قطنی میں رکوع جاتے اور رُکوع سے سر اٹھاتے وقت والے رفع یدین کے علاوہ سجدہ کے وقت کے رفع یدین کا بھی ذکر ہے،جبکہ جزء امام بخاری میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔ اس لیٔے انھوں نے کوئی جرح نہیں کی،اور نہ ہی یہ الفاظ نسائی و ابن خزیمہ میں ہیں۔ لہٰذا یہ مرفوعاً ہی صحیح ہے اور اگر بالفرض موقوف بھی مان لیا جائے،تو بھی یہ حکماً مرفوع ہی ہوگا،کیونکہ نماز میں کسی چیز کی زیادتی اجتہاد سے جائز نہیں۔ لہٰذا اِس اعتبار سے بھی یہ حدیث مرفوع ہی ہے۔ جزء رفع الیدین امام بخاری اور سنن ابن ماجہ میں رکوع کے بعد والے رفع یدین کا ذکر نہیں آیا جسے اختصار پر محمول کیا جائے گا،کیونکہ دوسرے محدّثین نے اسے مکمل ذکر کیا ہے۔ اور ایسی صورت میں کسی کے یہاں کسی امر کا مذکور نہ ہونا،اس کے عدم کی دلیل نہیں ہوسکتا،جیسا کہ ماہرین ِ علم ِحدیث کا قاعدہ ہے۔ یہاں یہ بات بطورِ خاص نوٹ کی جائے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ رکوع سے قبل و بعد رفع یدین کے قائل و فاعل رہے،اور یہ ایک معروف تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں،جنہیں مدینہ طیبہ میں دس سال تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کا موقع و شرف ملا تھا،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی معروف ہے کہ دس ہی سال تھی،تو گویا حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ٔ مبارک کے آخر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اور انکا رفع یدین کرنا اور اس سنّت کو