کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 41
(( أَخَذَ أَھْلُ مَکَّۃَ الصَّلوٰۃَ مِِِن ابْنِ جُرَیْجٍ وَأَخَذَ ابْنُ جُرَیْجٍ مِنْ عَطَائٍ وَ أَخَذَ عَطَائُ مِنَ ابْنِ الزُّبَیْرِ وَأَخَذَ ابْنُ الزُّبَیْرِ مِنْ أَبِيْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ وَ أَخَذَ أَبُوْ بَکْرٍ مِنَ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم ))۔ ‘’اہلِ مکہ نے نماز کا طریقہ ابن جریج ؒسے سیکھا،ابن جریج ؒنے امام عطاءؒ سے اخذ کیا،امام عطاء ؒ نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے حاصل کیا،اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نقل کیا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا۔‘‘ عبد الرزاق سے بیان کرنے والے راوی سلمہ کہتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل نے ہمیں جو عبد الرزاق سے روایت پہنچائی ہے،اس میں یہ الفاظ بھی ہیں : (( وَأَخَذَ النَّبِيُّ صلي اللّٰه عليه وسلم مِنْ جِبْرِیْلَ،وَأَخَذَ جِبْرِیْلُ مِنَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَ تَعَالیٰ ))۔  ‘’اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے نماز کا طریقہ حاصل کیا اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اللہ تبارک وتعالیٰ سے پایا۔‘‘ اس حدیث کی سند بھی صحیح و قابلِ حجت ہے۔ علّامہ زیلعیؒ نے نصب الرایہ میں اس حدیث کو قدرے مختلف الفاظ سے نقل کیا ہے،اور اس پر کوئی نقد و جرح نہیں کی۔ (مَا رَأَیْتُ أَحْسَنَ صَلوٰۃً مِنَ ابْن ِجُرَیْجٍ رَأَیْتُہٗ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلوٰۃ وَاِذَا رَکَعَ وَ اِذَارَفَعَ رَأْسَہٗ مِنَ الرُّکُوْعِ،وَأَخَذَ ابْنُ جُرَیجٍ صَلوٰتَہٗ عَنْ عَطَاء … الخ )۔ ’’میں نے ابن جریج سے بہتر نماز پڑھنے والا کسی کو نہیں پایا،میں نے دیکھا ہے کہ وہ نماز کے شروع میں اور رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر