کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 40
میزان الاعتدال میں علّامہ ذہبی نے بھی امام دار قطنی کا یہ قول نقل کیاہے اوراس پر موافقت کی ہے،بلکہ امام دار قطنی کی تائید میں لکھا ہے کہ وہ حافظ العصر تھے،اور امام نسائی کے بعد ان جیسا کوئی پیدا نہیں ہوا،اور امام ابن حبان کوئی ایک حدیث بھی ایسی ثابت نہیں کر سکے جو کہ منکر ہو،لہذا ان کی اس جرح کو ناقابل ِاعتماد قرار دیا ہے۔ اسی طرح سلمی پر جرح بھی ہے اور وہ بھی سخت گیر قسم کے محدّثین کرام میں سے امام ابو حاتم و دار قطنی کی طرف سے،جبکہ وہ جرح بھی غیر مفسَّر ہے،اور اس کے بر عکس امام نسائی نے انہیں ثقہ،خطیب بغدادی نے فاہماً متقناً اور خود امام دار قطنی نے صدوق کہہ کر ان کی تعدیل کی ہے۔ ایسے میں جرح پر تعدیل مقدّم ہوتی ہے،خصوصاً جبکہ امام طحاوی سے نقل کرتے ہوئے مولانا محمد حسن صاحب سنبھلی محشِّی ہدایہ نے اپنی کتاب شرح مسند ابی حنیفہ میں لکھا ہے : ( التَّعْدِیْلُ عِِنْدَنَا مُقَدَّمٌ عَلٰی الْجَرْحِ کَمَا نَقَلَہٗ الطَّحَاوِيُّ)۔  ’’ہمارے نزدیک جرح سے تعدیل مقدّم ہے،جیساکہ امام طحاوی نے نقل کیا ہے۔‘‘ غرض مجموعی طور پر یہ حدیث صحیح و قابل ِحجت ہے اور اس پر کوئی اعتراض و زنی و لائقِ التفات نہیں ہے۔ اس کی تائیدسنن کبریٰ بیہقی کی اگلی ہی حد یث سے بھی ہوتی ہے،جس میں عبد الرزاق کہتے ہیں :