کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 39
شروع میں اور رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔میں نے ان سے اس کی بابت پوچھا،تو انھوں نے بتایا کہ میں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی،وہ نماز کے افتتاح کے وقت اور رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے،اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے،رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔‘‘ امام بیہقی نے سنن کبریٰ میں اس حدیث کے تمام راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے،اور حافظ ابن حجر نے التلخیص الحبیرمیں بھی امام بیہقی کے الفاظ کو نقل کیا ہے،اور اس پر موافقت کی ہے،جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان کے نزدیک بھی اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں،ورنہ وہ تعاقب کرتے،مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔  جب سب راوی ثقہ ہیں تو انہی میں سے ہی ایک عبداللہ صفار بھی ہیں،وہ اگر متفرد بھی مانے جائیں جیسا کہ ان کا تفرد ثابت کیا جاتا ہے،تو بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،کیونکہ ثقہ راوی کا تفرد مضرّ نہیں ہوتا۔ اس کے ایک راوی محمدبن فضل السدوسی کے بارے میں امام ابن حبان نے لکھا ہے کہ آخر عمر میں آکر ان کے حافظہ میں اختلاط آگیا تھا،لیکن امام دار قطنی جیسے زبردست نقّاد نے لکھا ہے کہ آخر عمر میں ان کا حافظہ تو کچھ متغیّر ہوگیا تھا لیکن : ( مَاظَہَرَ لَہٗ بَعْدَ اِخْتِلاَطٍ حَدِیْثٌ مُنْکَرٌ وَ ہُوَ ثِقَۃٌ )۔  ‘’اختلاط کے بعد بھی ان سے کوئی منکر حدیث ظاہر نہیں ہوئی،جبکہ وہ ثقہ ہیں‘‘