کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 35
اور ۱۹۸ھ کو انھوں نے وفات پائی۔  جبکہ علّامہ ماردینی ۶۸۳ھ میں پیدا ہوئے اور ۷۵۰ھ میں وفات پائی۔  اب آپ ہی اندازہ فرمائیں کہ امام یحیٰ القطان ؒ جو علّامہ ماردینی کی پیدائش سے بھی [۴۸۵] سال قبل وفات پاچکے تھے،وہ علّامہ ماردینی کی تعریف کرنے کہاں سے آئیں گے؟ پانچ صدیاں بعدمیں آنے والے شخص کی تعریف میں تو اس امام کا قول گھڑلیاہے،جو اس کی پیدائش سے تقریباً پانچ سو سال پہلے وفات پاچکے تھے۔ اس (مدلّل نقطہ ) کے بعد آئیے دوسرا (مدلّل نقطہ )بھی ملاحظہ کریں کہ محمد بن عَمرو بن عطاء ؒکے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے سماع میں استحالہ پیدا کر دیا ہے،حالانکہ حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت محمد بن عَمرو کی عُمر پچیس،تیس سال کی لگ بھگ تھی۔ اور اتنی طویل معاصرت میں سماع کا عین امکان ہوتا ہے اور تاریخی طور پر اس میں کوئی امرِ مانع بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جملہ محدّثین کرام ؒ نے ان کے سماع و لقاء کی تصریح کی ہے۔نیز وہ اصولِ ستہّ کے راوی،ثقہ اور مُتْقِن تھے۔ کسی بھی محدّث سے بسندِ صحیح ان کی تضعیف ثابت نہیں ہے۔ اور حد تو یہ ہے کہ امام بخاری ؒ جیسے مایۂ ناز محدّث نے اپنی صحیح میں ان سے حدیث لی ہے۔ (باَبُ سُنَّۃِ الْجُلُوْسِ فِي التَّشَھُّدِ)کی دوسری حدیث محمد بن عَمرو بن عطاء عن ابی حمید الساعدی رضی اللہ عنہ کے طریق سے ہی مروی ہے،جو کہ لقاء و سماع کی ایک زبردست دلیل ہے۔