کتاب: قائلین و فائلین رفع الیدین مسائل و احکام،دلائل و تحقیق - صفحہ 34
فرماتے ہیں : ( ھُوَ اِمَامُ النَّاسِ فِي ھٰذَا الْبَابِ )۔ ‘’وہ فن ِ جرح و تعدیل کے امام ہیں۔‘‘ محمد بن عَمرو ایسا جھوٹا راوی ہے کہ اس کی ملاقات ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے ہرگز نہیں ہوئی،مگر کہتا ہے: (سَمِعْتُ)’’کہ میں نے سنا ہے۔‘‘ایسے آدمی کی روایت موضوع یا کم از کم اوّل درجہ کی مدلّس ہے۔ اس نقد و جرح کا تجزیہ : موصوف نے سنن بیہقی کے حاشیہ الجوہر النقی سے علّامہ ابن الترکمانی ماردینی کا جو تبصرہ نقل کیا ہے اور جس انداز سے کتاب و مصنّف کا نام لکھا ہے وہی اس کتاب’’جاء الحق‘‘کے فیصلوں کے مدلّل ہونے کی چغلی کھا رہا ہے،اور اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے علّامہ ماردینی کی تعریف کا بڑا نرالا ڈھنگ اختیار کیا ہے کہ امام یحییٰ بن سعید کا قول بنا لائے ہیں کہ انھوں نے ان کے بارے میں[ھْوَ اِمَامُ النَّاسِ]کہا ہے۔ صاحب الجوہر النقی کے عالم ہونے سے کسی کو بھی انکار نہیں،لیکن اگر اس بات کی تاکید کے طور پر کوئی قول پیش کرنا ہی تھا تو اس شخص کا قول پیش کیا جاتا جو موصوف کا معاصر ہوتا یا پھر ان کے بعد کا ہوتا،جبکہ ایسا نہیں ہوا بلکہ اس کے لیٔے نرالا ہی انداز اِختیار کیا گیا ہے کہ تعریف وہ شخص کر رہا ہے جو موصوف و ممدوح سے ساڑھے پانچ سو سال پہلے گزرا ہے،یحییٰ بن سعید ؒ کا مر کر جی اُٹھنا اور اپنے سے صدیوں بعد پیدا ہونے والے شخص کی تعریف کر جانے والی بات بھی خوب رہی۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ امام یحییٰ بن سعید القطان ۱۲۰ھ میں پیدا ہوئے